راولپنڈی: بیرون ملک جانے والے شہریوں کو لوٹنے والے پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
راولپنڈی سے بیرون ملک جانے والے شہریوں کو لوٹنے کے الزام میں 3 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
مقدمے میں اے ایس آئی عاطف، کانسٹیبل زبیر سمیت 3 اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ناکے پر پولیس اہلکاروں نے ملزم کو روکا، پولیس اہلکاروں نے مہمانوں کی تلاشی لی، قیمتی موبائل اور ملتانی حلوہ نکالا۔
مقدمے میں کہا گیا کہ پولیس اہلکار مہمانوں کو ہتھکڑیاں لگا کر جنگل میں لے گئے اور پیسوں کا مطالبہ کیا، پولیس نے 2 لاکھ روپے نقد اور 50 ہزار روپے اے ٹی ایم سے زبردستی نکلوائے۔
مقدمے کے متن کے مطابق اے ایس آئی عاطف مہمانوں کے ساتھ اے ٹی ایم گیا، کانسٹیبل زبیر نگرانی پر مامور رہا، پیسوں کی ادائیگی کے بعد نوجوانوں کو چھوڑ دیا گیا جو دبئی چلے گئے۔
متن میں تحریر کیا گیا کہ پولیس اہلکاروں نے بعد میں لڑائی جھگڑا شروع کردیا اور کپڑے بھی پھاڑ دیے، پولیس اہلکاروں کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ راولپنڈی پولیس نے حال ہی میں ہنی ٹریپ گینگز میں بھی پولیس کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک