اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بلاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں راجہ پرویز اشرف ، نوید قمر، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا شامل تھے۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کی بہادر افواج دشمن کے خلاف ہر دم تیار ہیں ،بھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت کے خلاف پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی مانند پاک افواج کے ساتھ کھڑی ہے ۔
شہبازشریف نے کہاکہ  پاکستان خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے لیکن اپنے دفاع کی حفاظت کے حوالے سے منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ،پہلگام واقعے کے بعد سے بھارت کا اشتعال انگیز رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے نہ صرف پہلگام واقعے پر تشویش کا اظہار کیا بلکہ واقعے کی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کا بھی کہا ، بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو واقعے سے جوڑنے کی بھارتی کوششوں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ  بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور معطل کرنے کرنا اور اسے آبی جارحیت کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے کیونکہ پانی پاکستانی عوام کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ بھارتی جارحیت بے نقاب کرنے کے حوالے سے پاکستان بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور دنیا کو پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کرنے کے لئے میری کئی ممالک کے سفیروں سے ملاقات ہوئی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اس مسئلہ کو بھرپور طور پر اٹھائے گا، تاکہ دنیا کو بھارت کا مکروہ چہرہ دکھائے اور اس کے عزائم سے آگاہ کرے۔
پیپلزپارٹی کے وفدنے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعتیں پاکستان کے دفاع اور حفاظت کے حوالے سے متحد ہیں ،پاکستان کے دفاع کی خاطر ہم پاکستان کی بہادر افواج کے شانہ بشانہ  ہیں ۔
وفد نے بھارتی جنگی عزائم دنیا کے سامنے رکھنے پر وفاقی حکومت کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزراء احد خان چیمہ ، محمد اورنگزیب ، احسن اقبال ،اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ ، علی پرویز ملک ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ، رانا مبشر اقبال، مشیر برائے وزیراعظم رانا ثناء اللہ ، ڈاکٹر توقیر شاہ ، وزیر مملکت عبدالرحمن کانجو ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طلحہ برکی بھی موجود تھے۔

 

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کہاکہ

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری