---فائل فوٹو 

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کا پہلگام واقعے میں کوئی ہاتھ نہیں، پاکستان دہشت گردی میں ملوث نہیں بلکہ غیرملکی معاونت سے ہونے والی دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں خوف کے سائے میں نہیں، عزم کی روشنی میں کھڑا ہوں، سرحدوں پر بندوقیں گرج رہی ہیں، جنگ کی سرگوشیاں ہو رہی ہیں مگر پاکستان کا حوصلہ متزلزل نہیں، یہ قوم خوف سے نہیں، جدوجہد سے بنی تھی اور جدوجہد سے ہی جیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سری لنکا اور کینیڈا سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں بھارت کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں، پاکستان نے اپنی سرزمین پر دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت دیے، ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، دہشتگردی کو صرف ٹینکوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ختم کیا جاسکتا ہے۔

بلوچستان میں بھارتی دہشتگردی کا منصوبہ بے نقاب

را نے کارروائیوں کے لئے دہشت گردوں کو افغانستان سے بھی متعلقہ علاقوں میں بھجوا دیا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی انسانیت کے خلاف جرم ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت خود ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے، بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی سے دہشت گرد حربوں کو نکالنا ہوگا، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، مذاکرات اور مکالمہ ہی تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے ایک افسوسناک واقعے کے بعد الزامات کی بارش کردی، سیاحوں کا قتل ایک سانحہ ہے مگر بھارت نے پاکستان پر الزام لگا دیا، ہم دہشتگردی برآمد نہیں کرتے، بلکہ خود اس کا شکار ہیں، دہشتگردی صرف جسموں پر نہیں، سچ، امن اور تہذیب پر حملہ ہے۔

مودی حکومت کا 7 ریاستوں میں شہری دفاع کی مشقوں کا اعلان

بھارتی حکومت نے شہری دفاع کی مشقوں کے انعقاد کے احکامات 5 مئی کو جاری کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو ابھی تک کلبھوشن کے بارے میں جوابدہ ہونا ہے، پاکستان نے بھارت کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کا ثبوت دیا۔ سری لنکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں بھی بھارت دہشتگردی میں ملوث ہے، بھارت خود ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی میں سے دہشت گرد حربوں کو نکالنا ہوگا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ناانصافی اور ظلم کے خلاف عالمی خاموشی شرمناک ہے،  بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، بھارت پاکستان کو اپنی نااہلی کا ذمے دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے، کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہیے، کشمیر میں گولی نہیں استصواب رائے ہونا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی انسانیت کے خلاف جرم ہے، پہلگام واقعہ ہوتے ہی بھارت نے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی پاکستان کو سزا نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے، بھارتی الزامات بےبنیاد اور مفروضوں پر مبنی ہیں۔

بھارتی نوجوان کا پاکستان مخالف بیان دینے سے انکار، صحافی کو کرارا جواب

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک بھارتی صحافی ایک نوجوان کو پاکستان مخالف بیان دینے پر مجبور کرتے نظر آ رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر طرح کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کےلیے پوری طرح تیار ہیں، پوری قوم متحد ہے، دشمن ہمیں تقسیم نہیں کر سکتا، پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم متاثرہ ہیں، ہم بدلہ نہیں انصاف چاہتے ہیں، بھارت پاگل پن کا مظاہرہ کرنے پر تلا ہے تو انہیں جان لینے دیں کہ ہم جھکنے والے نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، مذاکرات اور مکالمہ ہی تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں، پاکستان کی سالمیت اور وقار پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ صرف دریا نہیں بلکہ ہماری تہذیب ہے، پاکستان اس دریائے سندھ کی حفاظت کرے گا، آپ دریا کا رخ موڑ سکتے ہیں، انہیں خشک نہیں کر سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردی میں ملوث گردی میں ملوث ہے نہیں بلکہ میں بھارت کے خلاف

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو