مسلح افواج مکمل تیار ہیں، وزیراعظم کو آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز میں بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
فوٹو وزیراعظم آفس
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سروسز چیفس کے ہمراہ آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، اس موقع پر قومی قیادت نے وطنِ عزیز کے دفاع کےلیے پاکستان کے غیر مبہم عزم کا اعادہ کیا اور آپریشنل تیاری مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم آفس کے اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان آرمی دنیا کی سب سے زیادہ پیشہ ور اور نظم و ضبط کی حامل افواج میں سے ایک ہے۔
قومی قیادت نے کہا کہ قوم کی حمایت کے ساتھ، مسلح افواج ملکی سلامتی کے لیے ہر وقت مکمل تیار ہیں، وزیراعظم کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ اورمشرقی سرحد پر بھارت کے جارحانہ اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
اس موقع پر قومی قیادت کو علاقائی سلامتی کی صورتحال اور خطرات کے تناظر پر بھی بریفنگ دی گئی۔ قومی قیادت کو روایتی عسکری اقدامات اور ہائبرڈ وار فیئر کی حکمتِ عملی سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق قومی قیادت کو دہشت گرد پراکسیز سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم اور معزز شخصیات نے آپریشنل تیاری کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
شرکا کو بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ خودمختاری اور سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے مشکل حالات میں ادارے کی قومی سلامتی سے متعلق باخبر فیصلوں میں کردار کی تعریف کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی قیادت کیا گیا
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔