بھارتی حملوں میں 26 پاکستانی شہری شہید، 46 زخمی ہوگئے، تمام طیارے اوراثاثے محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی 2025ء ) بھارت کے میزائل حملوں میں 26 پاکستانی شہری شہید اور 46 زخمی ہوگئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارت نے 6 مقامات پر 24 حملے کیے جن میں اب تک 26 پاکستانی شہید اور 46 زخمی ہوہئے ہیں، لائن آف کنٹرول پر انڈین جارحیت سے 5 شہید ہو گئے، احمد پور شرقیہ میں 13 شہادتیں ہوئیں، مظفر آباد میں 3، کوٹلی میں 2، مریدکے میں 3 شہری شہید ہوئے، احمد پورشرقیہ میں مسجد سبحان پر 4 حملے کیے گئے، مسجد سبحان پر حملے میں بچی سمیت 13 شہری شہید اور 31 زخمی ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مظفرآباد میں مسجد بلال کو نشانہ بنایا گیا، حملے میں 3 شہید، بچی زخمی اور مسجد شہید ہوگئی، کوٹلی میں مسجد عباس پر حملہ کیا گیا، حملے میں 16 سالہ لڑکی اور بچہ شہید ہوا، مریدکے میں مسجد پرحملہ ہوا جس میں ایک شہید، ایک زخمی اور 2 لاپتا ہوئے، سیالکوٹ میں گاؤں پر 2 گولے گرے، جس میں کوئی نقصان نہیں ہوا، شکرگڑھ پر 2 حملے ہوئے، ڈسپنری کو معمولی نقصان پہنچا، بھارت نے معصوم اور بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا، عالمی میڈیا کو ان جگہوں کا دورہ کرایا جائے گا۔(جاری ہے)
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے دشمن کے 10 طیاروں کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی، اس دوران بھارت کے 3 رافیل، ایک مگ 29 اور ایس یو 30 طیارے مار گرائے ہیں، پاک فضائیہ کے تمام طیارے اور اثاثے محفوظ ہیں، پاک فوج پوری قوم کی حمایت کے ساتھ جارحیت کا جواب دیتی رہے گی، بھارت نے رات کے اندھیرے میں حملہ کیا اور پاکستان کی جری قوم کو للکارا ہے، اُس کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جس کے لیے یہ واضح کر دوں وقت اور جگہ کا تعین ہم کریں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شہری شہید
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔