جماعت اسلامی کی حکومت کو ملکی دفاع میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
لاہور:
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو ملکی دفاع میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرادی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کارکنان کو قومی رضا کار بننے کے تیاری کرنے جبکہ الخدمت کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ فعال رکھنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
خصوصی وڈیو پیغام میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بھارت کی کاروائی کا پاک فوج نے ذمہ درانہ اور بھرپور جواب دیا، انہوں نے دشمن کے 5 طیارے اور متعدد ڈرون مار گرانے پر ایئر فورس کو شاندار خراج تحسین بھی پیش کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دشمن نے ماضی کی طرح ایک بار پھر رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کیا اور مساجد و سویلین آبادی کو نشانہ بنایا، بھارت کو سبق سکھانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت معذرت خواہانہ لہجہ اختیار نہ کرے اور قوم میں جذبہ جہاد کو بیدار کیا جائے، پوری قوم اداروں کی پشت پر ہے، اس موقع پر کوئی اختلاف نہیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اپنی صفوں میں نشاندہی کریں جو مشکل گھڑی میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔ پوری قوم ایک پیج پر آئے اور ملکر دشمنوں سے لڑیں، موجودہ ملکی صورتحال پر مزید لائحہ عمل جلد جاری کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔