بھارت کی نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ پر گولہ باری
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ پر بھارتی گولہ باری—تصویر بشکریہ اے ایف پی
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت نے نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ پر بھی گولہ باری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیلم و جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ پر بھارتی حملہ ناقابل قبول ہے، یہ خطرناک اقدام ہے، کیا بھارت جانتا ہے اس کے کیا نتائج ہوں گے؟
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوسیری ڈیم دریائے نیلم پر انٹیک اسٹرکچر کو کل رات 2 بجے نشانہ بنایا گیا تھا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت کے بزدلانہ حملے میں 26 معصوم شہری شہید اور 46 زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی گولہ باری سے ڈی سینڈرز یونٹ میں واقع انٹیک گیٹس کو نقصان پہنچا، ہائیڈرالک سسٹم کا ایک ہائیڈرالک پروٹیکشن یونٹ بھی بھارتی گولہ باری کی زد میں آیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حملے میں ایک ایمبولینس کو بھی نقصان پہنچا، بھارت کی جانب سے آبی ذخائر پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں اُن مقامات پر حملے کیے گئے جن کا عالمی اور مقامی میڈیا کو گزشتہ روز دورہ کروایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ پر کا کہنا ہے کہ گولہ باری کہ بھارت ایس پی
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر