Juraat:
2026-07-24@01:25:01 GMT

غزہ دنیا کی سب سے بڑی جیل میں سسکتے فلسطینی

اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT

غزہ دنیا کی سب سے بڑی جیل میں سسکتے فلسطینی

جاوید محمود

غزہ کی پٹی روئے زمین پر سب سے گنجان آباد اورغربت زدہ علاقوں میں سے ایک ہے ۔غزہ کی تاریخ ایسی متعدہ مسلح تنازعات سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے اس خطے کی حالیہ تاریخ تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن اس چھوٹی سی پٹی کی اپنی تاریخ کیا ہے جسے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور خود فلسطینی بھی دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل قرار دیتے ہیں۔ ستمبر 1992 میں اسرائیلی وزیراعظم اسحاق راین نے ایک امریکی وفد سے ملاقات میں کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ غزہ سمندر میں غرق ہو جائے لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ناممکن ہے چنانچہ ہمیں کوئی حل نکالنا ہوگا ۔اسحاق رابن کو 1995 میں ایک اسرائیلی شدت پسند نے قتل کر دیا تھا ۔ان کے اس بیان کے 32سال گزر جانے کے باوجود اس معاملے کا حل نظر نہیں آرہا ۔41کلومیٹر طویل اور 10کلومیٹر چوڑی غزہ کی پٹی اسرائیل مصر آور بحیرۂ روم کے بیچ موجود ہے جہاں 23 لاکھ لوگ بستے ہیں ۔اسی لیے اسے دنیا کے گنجان ترین علاقوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ غزہ کی تاریخ تقریبا ًچار ہزار سال پرانی ہے اور اس کی کہانی بیرونی حملوں اور قبضوں سے بھری ہوئی ہے۔ مختلف زمانوں میں مختلف سلطنتوں نے اس پر حکومت بھی کی اور اسے تاراج بھی کیا، جن میں قدیم مصر سے لے کر سلطنت عثمانیہ تک دنیا کی طاقتورحکومتیں شامل رہیں۔ غزہ کو سکندر اعظم رومیو اور پھر مسلمانوں نے عمر ابن العاص کی سربراہی میں فتح کیا اور یوں ترقی اور تباہی کے اس سفر میں غزہ میں آباد ہونے والوں اور ان کی مذہبی شناخت بھی وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی۔ 1917تک غزہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا جس کی پہلی عالمی جنگ میں شکست کے بعد یہ علاقہ برطانیہ کے زیر اثر آیا۔ 1919کی پیرس امن کانفرنس میں فاتح ہو رہی طاقتوں نے ایک متحدہ عرب سلطنت کے قیام کو روکنے کے لیے پورے خطے کو تقسیم کر دیا ۔غزہ برٹش مینڈیٹ کا حصہ بنا جو 1920 سے 1948 تک وجود میں رہا۔ تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے فلسطین کے مقدر کا فیصلہ نئی نویلی اقوام متحدہ کی جھولی میں ڈال دیا ۔1947میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے ذریعے فیصلہ کیا کہ فلسطین کو تین حصوں میں بانٹ دیا جائے۔ 55فیصد علاقے پر یہودی اپنی ریاست بنا لیں۔ بیت المقدس کو عالمی مینڈیٹ کے زیر اثر رکھا جائے اور باقی ماندہ حصہ بشمول غزہ مقامی عرب باشندوں کے حصے میں چلا جائے۔ مئی 1948 کو جب اس قرارداد نے فلسطین سے برطانوی راج کا خاتمہ کیا تو اسی دن اسرائیل کی آزاد ریاست قائم کر لی گئی اور یوں پہلی عرب اسرائیل جنگ کا بھی آغاز ہوا جس میں لاکھوں مقامی فلسطینی بے گھر ہوئے اور غزہ کی پٹی میں بس گئے ۔پہلی عرب اسرائیل جنگ کا خاتمہ ہوا تو غزہ کی پٹی پر مصر کا قبضہ ہو چکا تھا ،جو 1967تک برقرار رہا۔ 1967کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے مصر اور شام پر مشتمل متحدہ عرب ریپبلک ان سمیت اردن آور عراق کو شکست دی اور غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس سمیت غزہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ اسرائیل کی فتح نے پرتشدد واقعات کے ایک ایسے تسلسل کو جنم دیا جو آج تک رک نہیں سکا۔ اسرائیل کے خلاف پہلی فلسطینی انتفادہ تحریک کا آغاز 1987میں غزہ سے ہی ہوا۔ اسی سال حماس وجود میں آئی تھی ۔1993میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امریکی ثالثی میں اوسلو معاہدہ ہوا ۔تو فلسطین نیشنل اتھارٹی کا قیام ہوا جسے غزہ کی پٹی اورغرب اردن کے چند علاقوں میں محدود خود مختاری دی گئی۔ اسرائیل نے 2005میں دوسری اور پہلے سے زیادہ پرتشدد انتفادہ تحریک کے بعد غزہ کی پٹی سے فوج اور 7000یہودی اہلکاروں کا انخلا کیا۔ ایک ہی سال بعد حماس نے انتخابات میں فلسطینیوں کی دوسری تنظیم فتح کوشکست دی اور یوں دونوں کے درمیان طاقت کی جنگ کا آغاز ہو گیا جس میں ایک جانب فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کی فتح جماعت تھی تو دوسری جانب حماس تاہم حماس تین جنگوں اور 16سال کے اسرائیلی محاصرے کے باوجود اب تک غزہ میں برسر اقتدار ہی۔ اس محاصرے کے خلاف حماس نے زیر زمین سرنگوں کا جال بچھا رکھا ہے، جن کے ذریعے سامان اور اسلحہ غزہ کے اندر لے جایا جاتا ہے۔ اسرائیل ان سرنگوں کو ایک خطرہ سمجھتا ہے اور اکثر فضائی حملوں میں ان کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اسرائیل کے 16 سالہ محاصرے نے غزہ کی پٹی میں معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق اس علاقے میں بے روزگاری کا تناسب 40فیصد سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہاں کی 65فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 63 فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ غزہ کی نصف آبادی 19 سال سے کم عمر ہے لیکن ان کے پاس معاشی ترقی کا کوئی راستہ ہے اور نہ ہی بیرونی دنیا تک رسائی کا کوئی ذریعہ ۔اقوام متحدہ کے مطابق مسلسل تشدد کا سامنا کرنے کی وجہ سے یہاں بچوں کی ایک پوری نسل آباد ہے، جسے طویل المدتی نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے لیکن انہیں کسی قسم کی مدد حاصل نہیں ۔یہاں کی آبادی خصوصا نوجوانوں میں اقوام متحدہ ہی کی رپورٹ کے مطابق ذہنی صحت سے جڑے مسائل بشمول ڈپریشن بڑھ رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے 2021کی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ غزہ کی بندش کی وجہ سے ہنرمند اور تعلیم یافتہ لوگ ایسے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے جو دنیا میں کہیں اور بسنے والے لوگوں کو عام میسر ہوتے ہیں ۔
اسرائیل کی ہی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق 23 لاکھ لوگوں کی یہ آبادی دنیا میں سب سے زیادہ گنجان آباد لاکھوں میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسی علاقے میں قائم آٹھ کیمپوں میں تقریبا 6 لاکھ پناہ گزین بھی رہائش پذیر ہیں۔ واضح رہے کہ لندن جیسے شہر میں فی اسکوائر کلومیٹر علاقے میں 5700لوگ رہتے ہیں لیکن غزہ میں اتنے ہی علاقے میں یہ اعداد و شمار9000تک پہنچ جاتے ہیں۔ 2014 میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی سرحد پر ایک دفاعی زون بنایا تھا جس کے بعد مکانات یا کاشتکاری کے لیے دستیاب زمین اور بھی کم ہو گئی ۔یہاں بجلی کی دستیابی بھی ہر وقت نہیں ہوتی۔ اقوام متحدہ کے مطابق زیادہ تر گھروں میں دن میں صرف تین گھنٹے بجلی میسر ہوتی ہے جو اسرائیل فراہم کرتا ہے۔ غزہ میں صرف ایک بجلی کا پلانٹ ہے جبکہ کچھ مقدار میں بجلی مصر سے ملتی ہے ۔زیادہ تر رہائشیوں کو پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کے مطابق غزہ کے بیشتر اسپتال اور طبی مراکز ماضی کی لڑائیوں میں تباہ ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے یہاں 22 طبی مراکز چلانے میں مدد دی جاتی ہے۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے حالیہ بمباری کے بعد یہاں کی آبادی کے حالات مزید متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ غزہ میں آباد فلسطینی بنیادی چیزوں سے محروم سسک سسک کر زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ ایک ایسی جیل میں جو گنجان بھی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جیل بھی اور ان کی نظریں انسانی حقوق کے اداروں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی جانب لگی ہیں ہے کوئی جو، ان کی مدد کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل کی غزہ کی پٹی علاقے میں دنیا کی ہے اور کے بعد

پڑھیں:

قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟

سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔

امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔

محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔

Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.

Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH

— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026

انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔

قاتل وہیل۔

کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔

یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری

تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔

اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔

تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا

گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔

سن فش۔

ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔

تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور

ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق