71 سالہ جیکی چین نئی فلم میں بھی اسٹنٹس خود کرنے کیلئے پُرعزم، کب ریلیز ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
عالمی شہرت یافتہ اداکار جیکی چین اپنی نئی فلم "کراٹے کڈ: لیجنڈز" میں ایک بار پھر ایکشن میں نظر آئیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے مشہور اداکار جیکی چین، جو 71 برس کے ہو چکے ہیں، ایک بار پھر اپنی نئی فلم "کراٹے کڈ: لیجنڈز" میں ایکشن سے بھرپور کردار میں جلوہ گر ہوں گے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی اپنے تمام اسٹنٹس خود کرتے ہیں اور اس روایت کو ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
جیکی چین نے بتایا کہ وہ 64 سال سے یہ سب کچھ کرتے آ رہے ہیں، اس لیے اب انہیں جسمانی تیاری کی ضرورت نہیں پڑتی سب کچھ ان کے دل و دماغ اور پٹھوں کی یادداشت کا حصہ بن چکا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Jackie Chan 成龍 (@jackiechan)
انہوں نے موجودہ دور میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے ہونے والی تبدیلیوں کو "دو دھاری تلوار" قرار دیا، جس سے ناقابلِ یقین مناظر ممکن ہوئے ہیں، لیکن حقیقت کا احساس کم ہو گیا ہے۔
نئی فلم "کراٹے کڈ: لیجنڈز"میں چن 2010 کی "کراٹے کڈ" کے کردار مسٹر ہان کو دوبارہ نبھا رہے ہیں جبکہ رالف میکیو بھی ڈینیئل لارووسو کے کردار میں واپسی کر رہے ہیں۔
نوجوان اداکار بین وانگ فلم میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم 30 مئی کو سینما گھروں کی زینت بنے گی جس کا جیکی چین کے مداحوں اور ایکشن فلمیں پسند کرنے والے شائقین کو بےصبری سے انتظار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جیکی چین نئی فلم رہے ہیں
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔