پاکستان نے بھارت کی حالیہ جارحیت کے جواب میں فیصلہ کن اقدام اٹھاتے ہوئے ’آپریشن بنیان المرصوص‘ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی عسکری قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر بھارت نے مزید جارحیت دکھائی تو ٹارگٹ ہائی ویلیو ہوگا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستانی ردعمل کے جواب میں مزید جارحیت کی تو پاکستان کی جوابی کارروائی کہیں زیادہ شدید اور نشانہ ’ہائی ویلیو اہداف‘ ہوں گے۔

 قیادت کا کہنا ہے کہ آئندہ کسی بھی بھارتی حملے کی صورت میں نہ صرف عسکری بلکہ بھارت کے معاشی مراکز بھی پاکستان کے ردعمل کی زد میں ہوں گے۔

قیادت نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دشمن کی ہر مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ قیادت نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 ’آپریشن بنیان المرصوص‘ نہ صرف پاکستان کی عسکری تیاری کا مظہر ہے بلکہ یہ واضح پیغام بھی ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتا۔

واضح رہے کہ بھارت نے پاکستان میں 3 ایئر بیسز پر میزائل داغے ہیں، تاہم پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے ان میزائل حملوں کو ناکام بنا دیا۔

اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارت ہمارے جواب کا انتظار کرو۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کی قیادت نے بھارت نے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان