اسرائیلی جنگی جرائم چھپانے کیخلاف لندن میں بی بی سی کے دفتر کے باہر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
مظاہرین نے بی بی سی شرم کرو، اسرائیل کو اسلحہ دینا بند کرو، نسل کشی کے خلاف یہودی اور خون آلود بی بی سی جیسے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے بی بی سی پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی رپورٹنگ کے ذریعے اسرائیل کو جواب دہی سے بچا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ برطانیہ میں سرگرم فلسطینی حامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بی بی سی کے ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرہ کیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ برطانوی نشریاتی ادارہ غزہ میں اسرائیلی مظالم اور نسل کشی کو چھپا رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق بی بی سی کی عمارت پورٹ لینڈ پلیس پر ہونے والے اس ہنگامی مظاہرے میں درجنوں مظاہرین شریک ہوئے جنہوں نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور بینرز کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے بی بی سی شرم کرو، اسرائیل کو اسلحہ دینا بند کرو، نسل کشی کے خلاف یہودی اور خون آلود بی بی سی جیسے نعرے لگائے۔
مظاہرین نے بی بی سی پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی رپورٹنگ کے ذریعے اسرائیل کو جواب دہی سے بچا رہا ہے اور جنگ زدہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مکمل حقیقت سامنے نہیں لا رہا۔ فلسطینی فورم ان برٹین کے فارس عامر نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سی نے غزہ سے متعلق ایک اہم دستاویزی فلم Gaza: How to Survive a War Zone کو فروری میں نشر ہونے سے روک کر یہ ثابت کیا کہ وہ معلومات فراہم کرنے کے بجائے حقائق کو چھپا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستاویزی فلمیں بھی مکمل سچ نہیں بتاتیں بلکہ صرف ایک رخ دکھاتی ہیں، لیکن بی بی سی نے وہ بھی روک دی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا مقصد عوام کو آگاہ کرنا نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مظاہرین نے بی بی سی اسرائیل کو رہا ہے
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔