آئی پی ایل کو کب تک کیلئے ملتوی کیا گیا؟ نائب صدر نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے نائب صدر راجیو شکلا نے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے مستقبل سے متعلق اہم اَپ ڈیٹ فراہم کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے نائب صدر راجیو شکلا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی پی ایل کے مستقبل کے حوالے سے اہم اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاک بھارت ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے سبب انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کو فوری طور پر محض ایک ہفتے کیلئے ملتوی کیا گیا ہے تاہم حکومت اور اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت جاری ہے، جس کے بعد شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔
گزشتہ دنوں پنجاب کنگز اور دہلی کیپٹلز کے درمیان میچ کے دوران رکوادیا گیا تھا جبکہ آئی پی ایل چیئرمین ارون دھومل نے میچ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تو گراؤنڈ میں بیٹھے کھلاڑیوں، شائقین کرکٹ اور چیئر لیڈرز بھی پریشان ہوگئے تھے۔
بعدازاں اعلیٰ عہدیداروں کیساتھ میٹنگ کے بعد آئی پی ایل منتظمین نے لیگ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
راجیو شکلا نے کہا کہ آئی پی ایل 2025 کے دوبارہ شروع ہونے سے متعلق کوئی حتمی ٹائم لائن واضح نہیں کی۔
واضح رہے کہ بھارت آئی پی ایل کیلئے ستمبر کی ونڈو پر غور کررہا ہے جس دوران ایشیاکپ شیڈول تھا تاہم پاک بھارت کشیدگی کے باعث ٹورنامنٹ کا مستقبل تقریباً تاریک ہوچکا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔