بھارت کا 22 ہلاکتوں کا دعویٰ، ہزاروں نقل مکانی پر مجبور، معیشت بھی تباہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بمبئی(اوصاف نیوز)بھارتی حکام نے پاکستان کی جوابی کارروائی کے دوران 22 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
نئی دہلی سے الجزیرہ کی نمائندہ امِّ کلثوم شریف کے مطابق بھارت نے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کارروائیوں میں 22 افراد کی ہلاکت ہزاروں کے نقل مکانی کا دعویٰ کیا ہے۔
ام کلثوم کے مطابق بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک کم از کم 22 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ رپورٹر کے مطابق جانی نقصان کے ساتھ ساتھ روزگار کا بھی بڑا نقصان ہوا ہے،
سرحدی دیہات سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے حملے کیے۔
سرینگر ایئر بیس اور آرمی ہیڈ کوارٹرز کے قریب 2 دھماکے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔