---فائل فوٹو 

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللّٰہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک ذمے دار ملک ہے، پاکستان نے ہر ممکن ضبط کا مظاہرہ کیا، لیکن بھارتی حملے نہیں رُکے، ہم پر حملے کیے گئے جس کا جواب دیا ہے۔

غیرملکی میڈیا سے گفتگو کے دوران عطااللّٰہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے یو این کے چارٹر کے مطابق جوابی کارروائی کی، ہم نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے کارروائی کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے صرف بھارت کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، بھارت نے ہمیشہ پاکستان میں سویلین کو نشانہ بنایا ہے، بھارت نے امرتسر کو خود نشانہ بنایا ہے۔

دشمن پر ہیبت طاری کرنے والا فتح-ون میزائل کن خصوصیات کا حامل ہے؟

فتح میزائل 120 کلو میٹر کی حد ظرب کا حامل ہے جس سے دشمن کے بڑے ٹھکانوں کو آسانی سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

 عطااللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ہم سفارتی سطح پر مختلف ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں، ہم اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح چوکس ہیں اور ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلگام ایل او سی سے 200 کلو میٹر سے زائد فاصلے پر واقع ہے، پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔

 وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ہم نے پہلگام واقعے کی شفاف اور مشترکہ تحقیقات کی پیش کش کی، بھارت نے پہلگام واقعے کے 10 منٹ کے اندر ایف آئی آر درج کر کے اسے مشکوک بنادیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نشانہ بنایا ہ تارڑ

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی