راولپنڈی: قتل کیس میں مشہور ٹک ٹاکر کو موت کی سزا سنادی گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
مشہور ٹک ٹاکر ریحانہ عرف زخمی شیرنی کو قتل کیس میں موت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی دی گئی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فرحت جبیں نے 3 روز سے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے کہا کہ مجرمہ ٹک ٹاکر کو اس وقت تک پھانسی پھندے پر لٹکائے رکھا جائے جب تک موت نو ہو جائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ مجرمہ نے سنگین جرم کیا ہے کسی قسم کی رعایت مستحق نہیں۔
رشتہ کے جھگڑے پر زخمی شیرنی نے کزن لجپال حسین شاہ کو قتل کیا، ٹک ٹاکر نے 30 بور پستول سے مقتول کے گھر میں داخل ہوکر فائرنگ کی۔
تھانہ کوٹلی ستیاں نے 23 مارچ 2023 کو مقدمہ درج کیا، ٹک ٹاکر زخمی شیرنی سے آلہ قتل پستول برآمد کیا گیا۔
مجرمہ ٹک ٹاکر ہر تاریخ پر ہتھکڑیوں میں ویڈیو بنا کر ٹک ٹاک بناتی، سزا کے بعد مجرمہ ٹک ٹاکر زخمی شیرنی اڈیالہ جیل منتقل کی جارہی ہے۔
ٹک ٹاکر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہائی کورٹ میں اپیل کروں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔