فضائی سروس بحال: حج آپریشن دوبارہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
جنگ بندی کے اعلان کے بعد وزارت مذہبی امور نے حج آپریشن دوبارہ شروع کردیا، فضائی حدود کھلنے کے بعد حج فلائٹ آج رات بھی چلے گی۔
ذرائع کے مطابق کشیدگی کے سبب آج 3 حج فلائٹس معطل ہوئی تھیں، پاک بھارت کشیدگی کے باعث حج آپریشن کی 10 فلائٹس معطل ہوئیں، ان 10فلائٹوں کے معطل ہونے سے 2290حاجی حجاز مقدس نہیں جاپائے تھے۔ کشیدگی کے باعث 7سعودی ائیرلائن اور 3 پی آئی اے کی پروازیں معطل ہوئی تھیں۔
وزارت مذہبی امور رہ جانے والے 2290حاجیوں میں سے 1100حاجیوں کو پی آئی اے کی اسپیشل فلائٹس سے روانہ کرچکا ہے، باقی 1100حاجیوں کو بھی آئندہ چند روز میں بھجوا دیا جائے گا۔
اسی ضمن میں وزارت مذہبی امور کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ وزارت مذہبی امور نے کہا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کیلئے مکمل بحال کردی گئی، حج پروازیں اب سے شیڈول کے مطابق سعودی عرب روانہ ہوں گی۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق لاہور سے 3، اسلام آباد سے 2 جبکہ کراچی اور ملتان کی ایک، ایک حج پرواز منسوخ ہوئی، فلائٹس منسوخی کے باعث 2 ہزار 290 عازمین کا شیڈول متاثر ہوا، ایک ہزار 277 عازمین کو خصوصی پروازوں کے ذریعے روانہ کیا جاچکا ہے، رہ جانے والے ایک ہزار 13 عازمین کو جلد خصوصی پروازوں کے ذریعے سعودی عرب روانہ کردیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق اب تک 19 ہزار 669 پاکستانی عازمین سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، عازمین حج پروازوں کی معلومات کیلئے متعلقہ حاجی کیمپوں سے رابطے میں رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز