امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
جنیوا(نیوز ڈیسک) جنیوا: سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جاری تجارتی مذاکرات میں اہم پیشرفت کے بعد امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق، مذاکرات میں امریکی نائب صدر، دو وزراء اور سفیر نے شرکت کی، اور امریکی صدر کو مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، اور تجارتی معاہدے کی تفصیلات پاکستانی وقت کے مطابق آج شما کسی وقت جاری کی جائیں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریز نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد تجارتی خسارے کو کم کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔