UrduPoint:
2026-07-24@05:09:37 GMT

جنگ میں کون ہارا؟ کون جیتا؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

جنگ میں کون ہارا؟ کون جیتا؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 مئی 2025ء) جنگ میں پہلی ہلاکت ہمیشہ ’’سچ‘‘ کی ہوتی ہے۔ سیاسی مفادات کے لیے مذہب اور حب الوطنی کا استعمال کچھ نیا نہیں ہے۔ عوام کے جذبات اور ان کی زندگیاں صرف پیادوں کی طور پر سیاست کی بساط پر استعمال کیے جاتے ہیں۔

سی این این کے رپورٹر نک رابرٹ سن کے مطابق پاکستان کے غیر متوقع رد عمل پر بھارتنے گھبراہٹ میں امریکہ، ترکی اور سعودی عرب سے فوری رابطہ کیا اور اس کو رکوانے کی درخواست کی مگر اپنی قوم کے سامنے بہرحال اس جنگ میں اپنی فتح پیش کی ہے۔

پاکستانی فوج نے بھی اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت دوبارہ حاصل کر لی ہے۔ جنگ بندی کو بین الاقوامی طور پر اسے خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔

چند بھارتی میڈیا ادارے جھوٹی خبریں پھیلاتے رہے، جن میں سے بہت سی ویڈیوز اور خبریں بین الاقوامی چینلز جنہیں بی بی سی ویری فائی ڈی ڈبلیو فیکٹ چیک اور سی این وغیرہ نےجھوٹا، من گھڑت یا کسی اور جنگ کا قرار دیا۔

(جاری ہے)

یہاں تک کہ بھارت کے کچھ غیر سنجیدہ میڈیا ادارے تو عوام کو یہ بتاتے رہے کہ بھارت نے کراچی کی بندرگاہ سے لے کر اسلام آباد تک سارے ملک کو فتح کر لیا ہے۔ اگلے روز صبح جب یہ تمام خبریں جھوٹی نکلیں تو بھارتی عوام میں بھی غصہ پایا گیا۔ اسی طرح پاکستانی میڈیا بھی اتنی ہی بات کرتا ہے جتنی ان کی عوام کو پسند آئے۔ پاکستانی سوشل میڈیا کے مطابق بھی بھارت کی ایک خاتون پائلٹ کو پاکستان نے قبضے میں لے لیا تھا اور اس خبر کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جب پہلگام میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا اور بہت سے بھارتی سیاح اس کا نشانہ بنے تو پاکستان کی طرف سے افسوس اور ہمدردی کے پیغامات سوشل میڈیا پر عام پائے گئے۔ اس کے برعکس جب انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا اور اسے آپریشن سندور کا نام دیا تو بھارت کی بہت سی نمایاں شخصیات نے سوشل میڈیا پر اس کو ایک جیت کی طرح منایا۔ یہ ایک افسوس کا مقام ہے کیونکہ جو بچے اپنی جان سے گئے ان سے جیت کسی ملک کی نہیں ہوئی۔

میڈیا کی جھوٹ سچ کی لڑائی پر چین نے بھی ایک گانا ریلیز کیا ہے جس میں اس نے فرانس کے تیار کردہ بھارتی جہازوں کے گرنے کو طنز اور مذاق کا نشانہ بنایا ہے۔

بھارتی شہریوں کی ایک تعداد ایسی بھی تھی جو کراچی سے اسلام آباد تک سب کچھ تباہ ہونے کی جھوٹی خبروں پر خوشی منا رہے تھی اور پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ بات باور کرواتے رہے کہ پاکستان میں ہر طرف بالکل سکون ہے اور عام زندگی چل رہی ہے۔

ایک طرف تو یہ ایک مثبت رویہ ہے تاکہ خوف و ہراس اور سراسیمگی نہ پھیلے مگر دوسری طرف یہ ایک بے حسی کی علامت بھی ہے کیونکہ جو 48 لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اگر آپ ان کے گھر والوں سے پوچھیں تو شاید آپ کو یہ سکون اور عام معمول کی زندگی کی کوئی خبر نہ ملے۔ ایک عام انسان کی جان بہت قیمتی ہے اور وہ بارڈر کے کس طرف ہے اس سے فرق نہیں پڑتا۔

اسی طرح دونوں جانب سے سرحدوں پر مامور فوج کے سپاہی اپنے اپنے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھے اپنا کام کر رہے ہیں۔ ان کے والدین، بہن بھائیوں اور بیوی بچوں کی پریشانی کا عالم اپنے گھر کے آرام میں کی بورڈ پر بیٹھا ایک نابلد جنگجو کبھی نہیں سمجھ سکتا۔

اس جنگ کے دوران جذبہ حب الوطنی ایک طرف مگر در پیش مسائل کا ادراک بھی ضروری ہے۔

2023 کے عالمی بینک کے ریکارڈ کے مطابق انڈیا میں 123 ملین افراد ایسی زندگی گزار رہے ہیں جو غربت کی لکیر سے بھی نیچے ہیں۔ اسی طرح 2024 کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان کی 42.

4 فیصد آبادی بنیادی سہولیات سے محروم شدید غربت کا شکار ہے۔ دونوں ملکوں کے نوجوان اپنی معیشت سے مایوس ہو کر کثیر تعداد میں تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع ڈھونڈنے کے لیے مغربی ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

دونوں ملکوں کو تعلیم، معاشی ترقی، سماجی مسائل، انسانوں کی حفاظت اور بہتر طرز زندگی کے لیے کوشش کی ضرورت ہے۔ جنگ ہو یا کوئی قدرتی آفت زیادہ نقصان ہمیشہ غریب کا ہی ہوتا ہے۔ سیاست دان یا بڑے اداروں میں بیٹھے ہوئے لوگ کسی بھی آفت سے اس طرح متاثر نہیں ہوتے جتنا خمیازہ ایک غریب کو بھگتنا پڑتا ہے۔

بین الاقوامی طور پر بڑی طاقتوں کو اس جنگ کو روکنے میں مثبت اور فوری کردار ادا کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی قرارداد جس پر کئی دہائیوں سے عمل نہیں کروایا جا سکا اب اس کو یقینی بنانے کا وقت آگیا ہے۔ کشمیریوں کو آزادانه طور پر اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے اور پاکستان اور بھارت دونوں اپنے ملکوں میں درپیش مسائل پر توجہ مرکوز کر کے اپنی عام عوام کی زندگی بہتر کر سکتے ہیں۔

عالمی دنیا کو یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ بغیر ثبوت اور تحقیق کےصرف ایک الزام کی بنیاد پر کوئی ملک دوسرے ملک پہ حملہ کرنے کا حق نہیں رکھتا تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات اور جنگ سے بچا جا سکے۔

اس جنگ میں دونوں ملکوں کا اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور سیز فائر کے بعد بھی دونوں ملکوں کے عوام انسٹاگرام، فیس بک، ٹک ٹاک اور مختلف ایپس پر مسلسل بحث مباحثے اور کمنٹس میں ایک جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دونوں اقوام غیر ذمہ دارانہ جرنلزم کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سوچ میں امن پسندی اور حقیقت کو شامل کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کا سوچیں نہ کہ ہندو مسلم تنازعات اور سیاسی سازش کی بھینٹ چڑھ کر انسان کی جان کی قدر گنوا دیں۔ جنگ میں کسی کی جیت نہیں اور امن میں سب کی بقا ہے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دونوں ملکوں سوشل میڈیا کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی

پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار شان بیگ اور ماڈل سے اداکارہ بننے والی روما مائیکل نے خاموشی سے شادی کرلی۔ 

اس خوشخبری کا اعلان شان بیگ نے سوشل میڈیا کے ذریعے کیا، جہاں انہوں نے اپنی اہلیہ روما مائیکل کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی، جس پر ’Wifey‘ کا اسٹیکر بھی نمایاں تھا۔ بعد ازاں روما مائیکل نے بھی یہی تصویر اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کرکے اس خبر کی تصدیق کردی۔

شادی کی خبر سامنے آتے ہی مداحوں، شوبز شخصیات اور ساتھی فنکاروں کی جانب سے مبارکباد اور نیک تمناؤں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ روما مائیکل نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز پر موصول ہونے والے متعدد مبارکبادی پیغامات بھی شیئر کیے، جن میں ان کی خوشحال ازدواجی زندگی کے لیے دعائیں کی گئیں۔

اس خوشخبری کے کچھ ہی دیر بعد شان بیگ نے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے مداحوں اور میڈیا سے اپنی نجی زندگی کا احترام کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی سابقہ اہلیہ سے طلاق کا عمل کافی عرصہ پہلے مکمل ہوچکا تھا اور دونوں اپنی اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں۔ اداکار کے مطابق اب انہوں نے امید، خوشی اور شکرگزاری کے ساتھ زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔

شان بیگ نے اپنے پیغام میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ماضی کو ماضی رہنے دیں اور افواہوں، قیاس آرائیوں یا غیر ضروری موازنوں سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی تمام تر توجہ اپنی نئی ازدواجی زندگی، خاندان، بطور والد اپنی ذمہ داریوں اور مستقبل پر مرکوز ہے۔

شان بیگ پاکستان میں متعدد کامیاب ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ وہ حال ہی میں ہالی ووڈ سیریز ’Deli Boys‘ کے دوسرے سیزن میں بھی نظر آئے تھے۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ وہ فیشن انفلوئنسر کے طور پر بھی خاصی شہرت رکھتے ہیں اور انہیں 2023 اور 2024 میں فلم فیئر مڈل ایسٹ کی جانب سے ’فیشن انفلوئنسر آف دی ایئر‘ کا اعزاز بھی دیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب روما مائیکل نے بطور ماڈل اپنی شناخت قائم کرنے کے بعد اداکاری کے میدان میں قدم رکھا۔ وہ 2023 اور 2024 میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ’مس چارم‘ اور ’مس گرینڈ بیوٹی‘ پیجنٹس میں بھی شریک رہیں، جبکہ فلم ’کہے دل جدھر‘ سمیت متعدد پراجیکٹس میں اپنی اداکاری کے باعث بھی توجہ حاصل کر چکی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی