قدرتی وسائل، معدنیات کے لحاظ سے بلوچستان زرخیز صوبہ ہے، گورنر جعفر مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
کوئٹہ میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جعفر مندوخیل نے کہا کہ شرکاء پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ آپ ملک و صوبے کی پائیدار سیاسی و معاشی ترقی اور خوشحالی کیلئے بھرپور کردار ادا کریں۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے امید ظاہر کی کہ نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے بہت جلد مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے بھارتی جارحیت کے خلاف حالیہ جنگ میں پاکستان کی شاندار جیت پر قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس فتح نے پوری مسلم دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا ہے، جسکا کریڈٹ افواج پاکستان اور موجودہ حکومت کو جاتا ہے۔ یہ بات قابل فخر ہے کہ پاکستان نے معیشت اور اسلحہ میں اپنے سے کئی گنا بڑھے ملک بھارت کو شکست دی۔ یہ کارنامہ پاکستان کے غیر متزلزل جذبے اور عسکری صلاحیتوں کے ثبوت کے طور پر تاریخ میں لکھا چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 15ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کی اختتامی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں گورنر مندوخیل نے پندرہویں نیشنل ورکشاپ کے شرکاء میں اسناد اور یادگاری شیلڈز تقسیم کیے۔ اس موقع پر صوبائی وزراء راحیلہ حمید خان درانی، میر عاصم کرد گیلو، محمد خان لہڑی، ہادیہ نواز اور نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے چیف کوآرڈینیٹر بلوچستان بریگیڈیئر بلال بھی موجود تھے۔
اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ تین ہفتے کے دورانیہ پر مشتمل ورکشاپ کا مقصد دراصل خطے کے تازہ ترین حالات و واقعات سے آگہی حاصل کرنا ہے، تاکہ ہم اپنی پائیدار معاشی ترقی اور سماجی انصاف کی پاسداری کیلئے ضروری اقدامات اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل، معدنیات اور رقبے کے لحاظ سے بلوچستان ایک زرخیز صوبہ ہے اور یہ سینٹرل ایشیا کے ممالک تک رسائی کا زمینی راستہ فراہم کرتا ہے۔ یہ بات اعتماد کے ساتھ کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کا روشن مستقبل بلوچستان سے وابستہ ہے۔ آپ کی باہمی مشاورت اور اجتماعی دانش سے بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں مدد اور فکری رہنمائی مل سکتی ہے۔ اس ورکشاپ کے اختتام کے بعد آپ سب شرکاء پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ آپ ملک و صوبے کی پائیدار سیاسی و معاشی ترقی اور خوشحالی کیلئے بھرپور کردار ادا کریں۔ ورکشاپ کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ آپ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری قبول کریں۔ تمام سماجی برائیوں، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام سے نمٹ کر ہم ایک روشن اور محفوظ مستقبل کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیشنل ورکشاپ بلوچستان مندوخیل نے نے کہا کہ
پڑھیں:
لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں
امریکی ریاست نیو میکسیکو کے شمالی علاقے میں واقع ایک قومی جنگل سے گزشتہ ہفتے ملنے والی انسانی باقیات کی شناخت میلیسا کاسیاس کے طور پر کر لی گئی ہے، جو تقریباً ایک سال قبل لاپتا ہو گئی تھیں۔
حکام کے مطابق وہ لاس الاموس نیشنل لیبارٹری سے وابستہ سائنسدان تھیں۔
میلیسا کاسیاس ان کم از کم 10 افراد میں شامل ہیں جو حالیہ برسوں میں امریکا کے حساس جوہری اور خلائی تحقیقاتی منصوبوں سے وابستہ رہے اور یا تو ہلاک ہوئے یا پراسرار طور پر لاپتا ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جوہری اور خلائی پروگرام سے وابستہ 10 سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکت، ٹرمپ کا تحقیقات کا حکم
ان واقعات نے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے اور سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کو بھی ہوا دی ہے۔
نیو میکسیکو اسٹیٹ پولیس کے مطابق 28 مئی کو ایک سیاح نے کارسن نیشنل فاریسٹ کے میک گیفی رج علاقے میں انسانی باقیات دریافت کیں۔
یہ مقام کاسیاس کے شہر تاؤس میں واقع گھر سے تقریباً 15 میل کے فاصلے پر ہے۔ باقیات کے ساتھ ایک ہینڈگن بھی ملی۔
The 53-year-old woman was one of 10 dead or missing scientists and staffers linked to sensitive federal nuclear and aerospace research. https://t.co/mZ36EeDyYF pic.twitter.com/bgAIBGm5PT
— KTLA (@KTLA) June 3, 2026
ریاستی دفتر برائے میڈیکل انویسٹی گیٹر نے باقیات کی مثبت شناخت کر لی ہے، تاہم تاحال موت کی وجہ اور نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا۔
حکام کے مطابق دریافت شدہ باقیات کے مزید بشریاتی معائنے کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: سائنسدانوں کی بڑی تعداد امریکا کیوں چھوڑنا چاہتی ہے؟
54 سالہ میلیسا کاسیاس کو آخری بار جون 2025 میں نیو میکسیکو کے علاقے ٹالپا کے قریب ایک شاہراہ پر پیدل چلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق وہ اپنا پرس، شناختی دستاویزات اور موبائل فون گھر پر چھوڑ گئی تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے ایک فون کو فیکٹری ری سیٹ بھی کیا گیا تھا۔
کاسیاس 26 جون 2025 کو اس وقت لاپتا قرار دی گئیں جب وہ کام پر نہ پہنچیں اور اپنی بیٹی کے دفتر جانے کے بعد گھر واپس بھی نہ آئیں۔
اس وقت حکام نے کہا تھا کہ کسی مجرمانہ کارروائی کے شواہد نہیں ملے تھے۔
مزید پڑھیں: امریکا کے خفیہ بائیو لیب پروگرام پر ایک دہائی سے جاری تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکا کے حساس جوہری اور خلائی تحقیقاتی منصوبوں سے وابستہ میلیسا کاسیاس سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک یا پراسرار طور پر لاپتا ہو چکے ہیں۔
اسی طرح لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے ایک اور ریٹائرڈ ملازم انتھونی شاویز بھی مئی 2025 میں لاپتا ہو گئے تھے، تاہم پولیس کے مطابق اس معاملے میں بھی کسی مجرمانہ کارروائی کے آثار نہیں ملے۔
دیگر واقعات میں ایک ریٹائرڈ امریکی فضائیہ کے میجر جنرل کی گمشدگی اور کیلیفورنیا میں ایک ماہر فلکیات کے قتل کا واقعہ بھی شامل ہے۔
ان معاملات کے تناظر میں امریکی کانگریس کی ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی نے اپریل میں حساس سائنسی معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کی اموات اور گمشدگیوں کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔
مزید پڑھیں:
امریکی ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ محکمہ توانائی اور دیگر وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا ان واقعات کے درمیان کوئی ممکنہ تعلق موجود ہے یا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی سائنسدان امریکی فضائیہ ایف بی آئی پُراسرار شناختی دستاویزات قومی جنگل کانگریس لاس الاموس محکمہ توانائی نیشنل فاریسٹ نیشنل لیبارٹری نیو میکسیکو