بھارت پر جوابی وار کے بعد سیاسی رہنما کیا کہتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے 6 جنگی جہاز، ڈرون، اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم ایس 400 سمیت کئی پوسٹیں تباہ کیں جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا، پاکستان کے جواب کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی فتح قرار دیا جا رہا ہے، گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہم بلا تفریق تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ممنون ہیں جنہوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر وطن کے دفاع میں متحد ہو کر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بہترین مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں وزیر اعظم کا ہرسال 10 مئی کو یوم معرکہ حق منانے، شہدا و زخمیوں کے لیے پیکج کا اعلان
’وی نیوز‘ نے بھارت کو جواب دینے پر سیاسی رہنماؤں کے بیان کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ تمام سیاسی رہنماؤں نے افواج پاکستان کو بھارت کو شکست دینے پر سراہا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاک بھارت حالیہ کشیدگی اور جنگ بندی پر اپنے بیان میں کہاکہ پاکستانی مسلح افواج، بحریہ اور فضائیہ نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر دشمن کو سخت پیغام دیا ہے۔
آصف علی زرداری نے کہاکہ مجھے ہمیشہ اپنی افواج پر اعتماد رہا ہے، اور اس معرکے میں انہوں نے جس جرأت اور جذبے کا مظاہرہ کیا وہ بےمثال ہے۔ ہم نے بھارت کی نام نہاد فوجی برتری کو کاری ضرب لگائی اور ثابت کیا ہے کہ ہماری قوم کا عزم ناقابل تسخیر ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ اللّہ ربّ العزت کا شکر ہے کہ اس نے پاکستان کو سر بلند کیا، پاکستان امن پسند ملک ہے مگر اپنا دفاع کرنا بھی جانتا ہے، نواز شریف نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کو مبارک ہو جبکہ چیف آف ایئر اسٹاف، ایئر چیف مارشل ظہیر سندھو اور افواجِ پاکستان کو شاباش اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے کہاکہ بھارت کو پاکستان کا جواب پوری دنیا نے دیکھا، آئندہ بھی کسی قسم کی جارحیت کا ایسا ہی سخت جواب آئے گا۔
انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیاکہ بھارت کے ساتھ سیز فائر ہو سکتا ہے تو پی ٹی آئی کے ساتھ بھی سیاسی سیز فائر ہونا چاہیے۔
جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ پاکستان کے جوابی وار کے بعد بھارت اور مودی کو ایسی شکست ہوئی کہ آج وہ دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، ماضی میں متعدد بار کہہ چکا ہوں کہ اسرائیل اور بھارت ایک ہی منصوبے پر کام کررہے ہیں، موجودہ صورتحال نے واضح کیاکہ یہ دونوں ایک ہی ہیں۔ بھارت کے خلاف شاندار کامیابی پر پاک فوج اور پاک فضائیہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جمعیت علما اسلام اور پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں بھارت کے اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم ایس 400 کی تباہی پاک بھارت جنگ کا سب سے بڑا واقعہ قرار
امیرِ جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ افواجِ پاکستان نے جوابی وار کرکے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا ہے، اس موقع پر ہم اپنے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آپریشن بنیان مرصوص آرمی چیف پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ پاکستان کا جوابی وار جنرل عاصم منیر سیاسی رہنما مودی سرکار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آپریشن بنیان مرصوص ا رمی چیف پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ پاکستان کا جوابی وار سیاسی رہنما مودی سرکار وی نیوز جوابی وار نے بھارت بھارت کے نے کہاکہ کے ساتھ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔