WE News:
2026-07-24@06:33:23 GMT

بھارت پر جوابی وار کے بعد سیاسی رہنما کیا کہتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

بھارت پر جوابی وار کے بعد سیاسی رہنما کیا کہتے ہیں؟

بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے 6 جنگی جہاز، ڈرون، اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم ایس 400 سمیت کئی پوسٹیں تباہ کیں جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا، پاکستان کے جواب کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی فتح قرار دیا جا رہا ہے، گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہم بلا تفریق تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ممنون ہیں جنہوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر وطن کے دفاع میں متحد ہو کر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بہترین مظاہرہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں وزیر اعظم کا ہرسال 10 مئی کو یوم معرکہ حق منانے، شہدا و زخمیوں کے لیے پیکج کا اعلان

’وی نیوز‘ نے بھارت کو جواب دینے پر سیاسی رہنماؤں کے بیان کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ تمام سیاسی رہنماؤں نے افواج پاکستان کو بھارت کو شکست دینے پر سراہا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاک بھارت حالیہ کشیدگی اور جنگ بندی پر اپنے بیان میں کہاکہ پاکستانی مسلح افواج، بحریہ اور فضائیہ نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر دشمن کو سخت پیغام دیا ہے۔

آصف علی زرداری نے کہاکہ مجھے ہمیشہ اپنی افواج پر اعتماد رہا ہے، اور اس معرکے میں انہوں نے جس جرأت اور جذبے کا مظاہرہ کیا وہ بےمثال ہے۔ ہم نے بھارت کی نام نہاد فوجی برتری کو کاری ضرب لگائی اور ثابت کیا ہے کہ ہماری قوم کا عزم ناقابل تسخیر ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ اللّہ ربّ العزت کا شکر ہے کہ اس نے پاکستان کو سر بلند کیا، پاکستان امن پسند ملک ہے مگر اپنا دفاع کرنا بھی جانتا ہے، نواز شریف نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کو مبارک ہو جبکہ چیف آف ایئر اسٹاف، ایئر چیف مارشل ظہیر سندھو اور افواجِ پاکستان کو شاباش اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے کہاکہ بھارت کو پاکستان کا جواب پوری دنیا نے دیکھا، آئندہ بھی کسی قسم کی جارحیت کا ایسا ہی سخت جواب آئے گا۔

انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیاکہ بھارت کے ساتھ سیز فائر ہو سکتا ہے تو پی ٹی آئی کے ساتھ بھی سیاسی سیز فائر ہونا چاہیے۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ پاکستان کے جوابی وار کے بعد بھارت اور مودی کو ایسی شکست ہوئی کہ آج وہ دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، ماضی میں متعدد بار کہہ چکا ہوں کہ اسرائیل اور بھارت ایک ہی منصوبے پر کام کررہے ہیں، موجودہ صورتحال نے واضح کیاکہ یہ دونوں ایک ہی ہیں۔ بھارت کے خلاف شاندار کامیابی پر پاک فوج اور پاک فضائیہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جمعیت علما اسلام اور پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں بھارت کے اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم ایس 400 کی تباہی پاک بھارت جنگ کا سب سے بڑا واقعہ قرار

امیرِ جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ افواجِ پاکستان نے جوابی وار کرکے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا ہے، اس موقع پر ہم اپنے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آپریشن بنیان مرصوص آرمی چیف پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ پاکستان کا جوابی وار جنرل عاصم منیر سیاسی رہنما مودی سرکار وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آپریشن بنیان مرصوص ا رمی چیف پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ پاکستان کا جوابی وار سیاسی رہنما مودی سرکار وی نیوز جوابی وار نے بھارت بھارت کے نے کہاکہ کے ساتھ

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا