سمیع رشید نے سحر حیات سے طلاق کی خبروں پر اہم بیان دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
معروف سوشل میڈیا اسٹار جوڑی سحر حیات اور سمیع رشید کے درمیان علیحدگی کی افواہوں پر سمیع رشید کا ردعمل سامنے آگیا۔
گزشتہ کچھ دنوں سے ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر سحر حیات کے شوہر سمیع رشید کی طلاق کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں تاہم اب سمیع رشید نے ان افواہوں کی تردید کردی ہے۔
سمیع نے اہلیہ سے علیحدگی کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی نجی زندگی کو سوشل میڈیا پر لانے کے حق میں نہیں تھے، مگر افواہوں کے پھیلنے کے بعد وضاحت دینا لازمی ہوگیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہر میاں بیوی میں لڑائی ہوتی ہے مگر ہمارے درمیان بیٹی کی سالگرہ کے اگلے دن ہونے والا ایک معمولی جھگڑا شدت اختیار کر گیا ہے تاہم میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں کہ معاملہ طلاق تک نہ پہنچے۔
A post shared by ᏕαмᎥ ᏒαѕнєєᎠ® (@samirasheedofficial)
سمیع رشید نے کہا کہ ان کی ازدواجی زندگی میں مسائل ضرور آئے ہیں، تاہم یہ مسائل سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رشتوں میں انا آ جائے تو صورتحال پیچیدہ ہو جاتی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ سحر اب بھی ان کی بیوی ہیں ان کے نکاح میں ہیں اور وہ طلاق نہیں چاہتے۔
سمیع نے سحر حیات کی گزشتہ دنوں وائرل ہونے والی ویڈیو پر افسوس کا اظہار کیا جس میں انہوں نے خود کو ایک سنگل مدر کہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ماہ سے اپنی بیٹی سے نہیں مل سکے اور صرف وی لاگز میں اسے دیکھ رہے ہیں جو ان کیلئے بہت مشکل ہیں کیونکہ وہ بیٹی کو لے کر بےحد جذباتی ہیں۔
یاد رہے کہ سحر حیات نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے سمیع کے ساتھ اپنی تمام تصاویر ہٹا دی ہیں، جس کے بعد ان کی علیحدگی کی افواہیں زور پکڑ گئی ہیں تاہم اس جوڑی کے مداح انہیں معاملے کو سلجھانے اور علیحدگی سے بچنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر نے کہا کہ سحر حیات انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔