اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کی المناک صورتحال پر ہونے والے خصوصی اجلاس میں پاکستان نے واضح الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فوری، مستقل اور غیر مشروط سیزفائر نافذ کیا جائے اور اسرائیلی محاصرہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔ پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، لوگ مر رہے ہیں اور دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو صرف جارحیت دیکھنے کے بجائے عملی حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ عاصم افتخار نے زور دیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے شروع کیے جانے والے تمام پروگرامز کی بھرپور حمایت ہونی چاہیے۔ عاصم افتخار نے اسرائیل کی جانب سے امدادی اشیاء کی راہ میں رکاوٹوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی کڑی تنقید کی۔ اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے بھی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا غزہ میں امداد کی تقسیم کا منصوبہ مکروہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس ہفتوں سے جنگ زدہ علاقے میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی اشیاء نہیں پہنچ سکیں، اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں فلسطینی موت کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔ ٹام فلیچر نے واضح کیا کہ ایسا سخت میکانزم موجود ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ امداد حماس کے بجائے عام شہریوں تک پہنچے، لہٰذا اسرائیل کی رکاوٹیں ناقابل قبول ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے بھی اسرائیلی پالیسیوں کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اس وقت پانچ لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہیں، اور یورپی ممالک کو چاہیے کہ اسرائیل پر پابندیاں بڑھانے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی جارحیت بدستور جاری ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 46 فلسطینی شہید اور 73 زخمی ہو گئے۔ اسرائیل نے پناہ گزین کیمپوں اور رہائشی گھروں کو نشانہ بنایا، جب کہ خان یونس پر کی گئی بمباری میں کم از کم 20 افراد شہید ہوئے۔ 18 مارچ سے اب تک 2,780 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جب کہ غزہ میں شہداء کی مجموعی تعداد 52,908 ہو گئی ہے۔ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ انیس ہزار سات سو اکیس (119,721) ہو چکی ہے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی نے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور انسانی بحران شدید ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔  اقوام متحدہ، اسلامی ممالک اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی حملے فوری بند کیے جائیں، محاصرہ ختم کیا جائے اور غزہ میں فوری انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کہ غزہ میں کہا کہ

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم