جنگ بندی کے درمیان پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا جب کہ پاکستان نے بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے کانسٹیبل کو اور بھارت نے پنجاب رینجرز کے محمد اللہ کو پاکستانی حکام کے حوالے کیا۔

رپورٹ کے مطابق بی ایس ایف کے اہلکار پورنم کمار کو 23 اپریل 2025 کو گنڈا سنگھ والا/فیروز پور سیکٹر میں پاکستانی حدود میں غیر ارادی طور پر داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد پاکستانی حکام نے قانونی و حفاظتی تقاضے مکمل کیے، جس کے بعد آج واہگہ/اٹاری سرحد پر باقاعدہ طور پر اس کی واپسی عمل میں لائی گئی۔

بی ایس ایف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی گئی  کہ پاکستان رینجرز نے پورنم کمار کو بحفاظت واپس انڈیا کے حوالے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’میرا سندور لوٹادو‘، گرفتار بھارتی اہلکار کی اہلیہ کا مودی سرکار سے مطالبہ

انڈین حکام نے اس اقدام کو سراہا ہے اور اسے ایک مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

پاکستان کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے بارڈر بند ہیں اورمحدود جنگی جھڑپوں کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ابھی تک کشیدہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے انسانی بنیادوں پر ایک بھارتی فوجی کو واپس کرنا نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری ہے بلکہ ایک مثبت پیغام بھی ہے کہ خطے میں امن و تعاون کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی کی ایک چھوٹی مگر اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے درمیان

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال