واہگہ بارڈر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
احمد منصور: جنگ بندی کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کا ایک اور تبادلہ عمل میں آ گیا، واہگہ اٹاری سرحد پر دونوں ممالک نے اپنے ایک ایک قیدی کو ایک دوسرے کے حوالے کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق انڈین بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکار پورنم کمار شاہ کو بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا جبکہ پاکستانی پنجاب رینجرز کے اہلکار محمد اللہ کو پاکستانی حکام نے واپس وصول کیا۔
موسم گرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایس ایف کے اہلکار پورنم کمار شاہ 23 اپریل 2025 کو گنڈا سنگھ والا/فیروز پور سیکٹر میں غیر ارادی طور پر پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے تھے جس پر انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے قانونی اور سیکیورٹی تقاضے مکمل کرنے کے بعد انہیں واپس بھارت کے حوالے کر دیا۔
بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ پاکستان رینجرز نے اہلکار پورنم کمار شاہ کو بحفاظت انڈیا کے حوالے کیا ہے۔
بھارتی وزیر نے مسلم فوجی کرنل کو دہشتگردوں کی صف میں شامل کردیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔