بھارت سب سے بڑی جمہوریت نہیں بلکہ جھوٹ کی فیکٹری ہے; پاکستانی قونصلر
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
سٹی 42 : جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے بھارتی مندوب کو کرارا جواب دے دیا۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نہیں بلکہ سب سے بڑی جھوٹ فیکٹری ہے، بھارت واحد ملک ہے جو اندرون و بیرونِ ملک ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کو پالیسی کے طور پر اپنائے ہوئے ہے، بھارتی پراکسیز ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے پاکستان میں ہزاروں بے گناہوں کی جان لی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قربانیاں عالمی برادری تسلیم کرتی ہے، ہمیں بھارت سے دہشت گردی پر لیکچر کی ضرورت نہیں۔
لداخ کی حقوق کی تحریک کے رہنما پر پاکستان سے روابط کا الزام، لداخی عوام کا احتجاج
پاکستانی قونصلر نے کہاکہ پہلگام واقعے پر پاکستان کا مطالبہ، آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں، بھارت کے پاس چھپانے کو بہت کچھ ہے،بھارت نے مئی 2025 میں پاکستان پر بلاجواز جارحیت کی، بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے شہید ہوئے، پاکستان نے جنگ سے پہلے، دوران اور بعد میں ذمہ دارانہ رویہ اپنایا تاکہ شہری و ڈھانچے متاثر نہ ہوں، بھارتی جنگی مہم جوئی ناکام ہوئی، غرور کا بلبلہ پھٹ گیا، فوجی طاقت کا افسانہ بکھر گیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کا مکروہ کردار اور پانی کو ہتھیار بنانے کی سازش ظاہر کرتی ہے، آر ایس ایس ۔بی جے پی حکومت کے تحت بھارت میں اقلیتوں پر ظلم ریاستی پالیسی بن چکا ہے، گجرات، دہلی اور منی پور کے واقعات بھارت کے خون آلود ریکارڈ کے گواہ ہیں۔
ڈکی بھائی کے بعد سوشل میڈیا انفلوائنسر اسد ندیم مغل بھی گرفتار
پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے کہاکہ بھارت میں اسلاموفوبیا قانون، سیاست اور میڈیا میں ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکا ہے، بھارت ہمسایوں کو ڈراتا ہے، پراکسیز کو فنڈ کرتا ہے، علاقائی امن کو سبوتاژ کرتا ہے، جموں و کشمیر بھارت کا حصہ کبھی نہیں تھا اور نہ ہے، سلامتی کونسل کی قراردادیں واضح ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے کشمیر میں 9 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جعلی مقابلے، گمشدگیاں اور اجتماعی قبریں معمول ہیں، اگست 2019 کے بعد بھارت نے غیرقانونی آبادیاتی انجینئرنگ سے کشمیریوں کی ڈیموگرافی بدلنے کی کوشش کی۔
ہوسکتا ہے ہمارا سب سے بیسٹ اس میچ کیلئے بچا ہو، ایشیا کپ جیتنے کیلئے میدان میں اترینگے؛ سلمان علی آغا
صائمہ سلیم نے کہاکہ پاکستان پرامن بقائے باہمی کا حامی ہے مگر جارحیت مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، آپریشن "بنیان المرصوص" بھارتی مہم جوئی پر پاکستان کا تاریخی جواب تھا، پاکستان بھارت کی منافقت، قبضے اور جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتا رہے گا، کشمیری عوام انصاف، وقار اور آزادی کے حقدار ہیں، ایک دن ضرور آزاد ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: صائمہ سلیم نے نے کہاکہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :