جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ، جمشید دستی کو سات برس قید کا حکم،سیشن کورٹ نے فیصلہ سنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ، جمشید دستی کو سات برس قید کا حکم،سیشن کورٹ نے فیصلہ سنا دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 September, 2025 سب نیوز
ملتان (آئی پی ایس )سیشن کورٹ ملتان نے جمشید احمد دستی کے خلاف جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں سات برس قید کی سزا سنادی۔ جمشید دستی کے خلاف الیکشن کمیشن نے جعلی ڈگری کا استغاثہ دائر کر رکھا تھا، جمشید دستی نے 2008 میں مدرسے کی بی اے کی ڈگری پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پاس جمشید دستی کی ڈگری کا ریکارڈ موجود نہیں، ملزم نے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی کی، انہیں حقیقت چھپانے پر نااہل کیا جانا چاہیے۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے مظفرگڑھ کے حلقہ این اے 178 سے الیکشن میں حصہ لیا جعلی ڈگری کی بنا پر انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ، حکومت کا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ، حکومت کا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ پاکستان میں پولیو کے اور کیس کی تصدیق، رواں سال کیسز کی تعداد 27 ہوگئی افغانستان کی دہشت گردی کے حوالے سے دوغلی پالیسی بے نقاب دمشق میں نئی تاریخ رقم: خانہ جنگی کے بعد شام کے پہلے پارلیمانی انتخابات کا اعلان فلسطین کو اقوام متحدہ کی رکنیت دی جائے: چین کی عالمی برادری سے اپیل ایس ای سی پی کیخلاف کیس؛ وکیل کے التوا ء مانگنے پر جسٹس محسن برہمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جمشید دستی جعلی ڈگری کا فیصلہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔