احتجاج سے خطاب میں مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر اسرائیلی ڈرون ہندوستان کے ذریعہ پاکستان میں حملہ آور ہو سکتے ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ فلسطینیوں کی ہر ممکنہ سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد کے ساتھ مسلح مدد بھی کی جائے تو کہ پاکستان کی نظریاتی دشمن ریاست غاصب اسرائیل کو نابود کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ ملی یکجہتی کونسل سندھ اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے باہر یوم نکبہ کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں شہریوں نے شرکت کی اور فلسطین پر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ناجائز قیام کے 77 سال مکمل ہونے پر احتجاج کیا۔ مظاہرے کی قیادت ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسداللہ بھٹو اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینیوں کے حق واپسی کی حمایت سمیت اسرائیل ایک ناجائز ریاست کے نعرے درج تھے جبکہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی حمایت کے لئے مظاہرین نے ہاتھوں میں چابیوں کے علامتی نشان بھی اٹھا رکھے تھے۔ احتجاجی مظاہرے سے سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی، علامہ قاضی احمد نورانی، احمد ندیم اعوان، علامہ باقر زیدی، علامہ مرتضی رحمانی، اسرار عباسی، یونس بونیری،سابق رکن سندھ اسمبلی میجر (ر) قمر عباس، علامہ جعفر سبحانی، پاسٹر امانوئیل، علامہ امین انصاری، مولانا محمد قاسم اور دیگر نے خطاب کیا۔

احتجاجی مطاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ آج غزہ میں فلسطینیوں پر روزانہ ایک نکبہ گرایا جا رہا ہے، پوری دنیا کے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ کے سعودی عرب سمیت قطر اور امارات کے دورہ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے مسلم حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں بلکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کئے جائیں اور فلسطینیوں کی مدد کی جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے بہترین مہارت کے ساتھ امریکی و اسرائیلی پٹھو ہندوستان کو زبردست اور منہ توڑ جواب دے کر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینا جانتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر اسرائیلی ڈرون ہندوستان کے ذریعہ پاکستان میں حملہ آور ہو سکتے ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ فلسطینیوں کی ہر ممکنہ سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد کے ساتھ مسلح مدد بھی کی جائے تو کہ پاکستان کی نظریاتی دشمن ریاست غاصب اسرائیل کو نابود کیا جائے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریات کی توہین کرے اور پاکستان سے غاصب اسرائیل جا کر پاکستان اور فلسطین کے خلاف بیان بازی کرے۔ رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان سے اسرائیل جانے والے شہریوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ ملی یکجہتی کونسل سندھ نے 7 مئی سے 16 مئی تک عشرہ نکبہ منانے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ملک بھر میں فلسطین کے حق میں مختلف پروگرام جاری ہیں۔ 16 مئی کو یوم سیاہ منانے کی اپیل کی گئی ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے مظالم کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ احتجاجی مظاہرے میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین میں علامہ صادق جعفری، علامہ مبشر حسن، ثقلین اسحاق، عبد العظیم، علامہ بدر الحسنین، علامہ عقیل انجم، ناصر رضوان ایڈوکیٹ ، علامہ شوکت مغل، علامہ عبد الغفار، علامہ عبد الوحید یونس، علامہ حیات عباس، علامہ ملک عباس، علامہ سجاد حیدر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مطالبہ کیا کہ کہ پاکستان اسرائیل کو اور فلسطین کی جائے کے ساتھ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم