Daily Ausaf:
2026-07-24@05:02:38 GMT

بھارت کو یورپ سے سبق سیکھنا چاہیے

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

گزشتہ صدی نے انسانیت کو ایک تلخ اور خونی سبق دیا۔ دو عالمی جنگوں، لاتعداد علاقائی تنازعات، اور نظریاتی تصادمات نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یورپ، جو تہذیب و تمدن کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا، میدانِ جنگ بن گیا۔ انسانوں کے بدن ہی نہیں، بلکہ اقوام اور ممالک کے وجود پارہ پارہ ہو گئے۔ بستیاں اجڑ گئیں، نسلیں مٹ گئیں، اور امن صرف ایک خواب بن کر رہ گیا۔مگر جب ہر طرف تباہی کا اندھیرا چھا گیا، تب عقل نے کروٹ لی۔زندگی کے اصل مقاصد پر غور شروع ہوا۔ امن کی اہمیت کو سمجھا گیا۔ بین الاقوامی اصول و ضوابط مرتب کیے گئے تاکہ آئندہ نسلیں ویسی ہولناکی نہ دیکھیں جو ان کے آبائو اجداد نے دیکھی تھی۔ یہی سوچ تھی جس نے ’’لیگ آف نیشنز‘‘ اور بعد ازاں ’’اقوامِ متحدہ‘‘ جیسے اداروں کو جنم دیا۔ ان اداروں کا مقصد یہی تھا کہ اختلافات کو بات چیت اور سفارتی کوششوں سے حل کیا جائے، نہ کہ گولی اور بارود سے۔یورپ کی مثال سب سے روشن ہے۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ، اٹلی یہ وہ ممالک تھے جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ لیکن انہوں نے ماضی کی تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر ’’یورپی یونین‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ایک مشترکہ کرنسی، آزادانہ سفر، اور باہمی انحصار پر مبنی معاشی نظام نے ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ آج ان کے درمیان جنگ کا تصور بھی محال ہے۔اب سوال یہ ہے: بھارت کب سیکھے گا؟پہلگام واقعے کے بعد جو جنگ چھڑی، اس نے ایک بار پھر یہ حقیقت عیاں کر دی کہ جنوبی ایشیا کے رہنما تاریخ کے ان سبقوں سے سبق نہیں سیکھ رہے جو یورپ نے بڑے خلوص اور قربانیوں سے سیکھے۔
پاکستان اور بھارت کبھی ایک ہی ملک کے دو حصے تھے۔ مختلف قومی نظریات کے باوجود دونوں کا تاریخی، ثقافتی، اور تہذیبی سرمایہ مشترک تھا۔ لیکن تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے فاصلے وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید گہرے ہوتے چلے گئے۔ ان میں سب سے بڑا تنازعہ کشمیر ہے، جس پر اقوامِ متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ دنیا کی تسلیم شدہ قراردادوں کے باوجود بھارت اس دیرینہ مسئلے کو طاقت کے بل پر دبانا چاہتا ہے۔ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ، وہاں انسانی حقوق کی پامالی، اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو مسلسل نظرانداز کرنا نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے امن کے منہ پر طمانچہ ہے۔
بھارت نے نہ صرف کشمیر پر ناجائز تسلط قائم رکھا ہے بلکہ پاکستان کے حصے کے دریائوں پر ڈیمز بنا کر بین الاقوامی آبی معاہدوں کی بھی دھجیاں اڑائی ہیں۔ پانی جیسے بنیادی انسانی حق کو ہتھیار بنا کر بھارت اس خطے کو ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر لا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں دہشت گردی کی پشت پناہی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں بھی مسلسل جاری ہیں۔
کیا بھارت کو اب بھی یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ جنگوں سے نہ کبھی امن ملا، نہ خوشحالی؟ اگر واقعی بھارت ایک ذمہ دار اور بڑی طاقت بننا چاہتا ہے تو اسے ماضی کی رعونت اور تکبر کو ترک کرنا ہوگا۔ اسے چاہیے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے، کشمیریوں کو ان کا جائز حق دے، پاکستان کے ساتھ برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرے، اور خطے میں خوشحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ اب اسے یقین ہو جانا چاہئے کہ وہ اپنی جنگی قوت ، معیشت اور حجم سے پاکستان کو کبھی مرعوب نہیں کر پائے گا ۔ ہوش اور عقل کے ناخن لے کر اچھا پڑوسی بننے کی عادت ڈالے ۔
عارضی فائر بندی ضرور ہوئی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ خاموشی کب تک قائم رہے گی؟ اگر بھارت نے اب بھی اپنے رویے پر نظر ثانی نہ کی، تو خطہ مستقل جنگی کیفیت میں چلا جائے گا اور اس کا سب سے بڑا نقصان دونوں ملکوں کے عوام کو ہوگا۔
یورپ کی طرح بھارت اور پاکستان بھی ’’ایشین یونین‘‘ کا خواب دیکھ سکتے ہیں اگر نیت ہو، اگر ضد چھوڑی جائے، اگر عوامی بھلائی کو ترجیح دی جائے۔
ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں سے کبھی کوئی قوم کامیاب نہیں ہوئی، صرف برباد ہوئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا