والد کے انتقال کا سن کر بھی لوگوں کو ہنساتا رہا: شکیل صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اور کامیڈین شکیل صدیقی نے اپنی زندگی کے سب سے مشکل لمحے سے پردہ اُٹھا دیا۔
حال ہی میں کامیڈین نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بطور مہمان شرکت ہوئے، انہوں نے دورانِ انٹرویو مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مجھے اپنے والد کے انتقال کی خبر اس وقت ملی جب میں امریکا میں پرفارم کر رہا تھا۔
کامیڈین نے بتایا کہ میں اسٹیج پر پرفارم کررہا تھا کہ مجھے بتایا گیا کہ میرے والد انتقال کرگئے ہیں لیکن یہ خبر سن کر بھی میں نے اگلے ڈیڑھ گھنٹے لوگوں کو ہنسایا۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے بعد جب دیگر لوگوں کو اس بارے میں علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ بتایا کیوں نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ امریکا جیسے ملک میں لوگ دور دراز سے بہت پیسے خرچ کرکے اپنے ہم وطنوں کی پرفارمنس دیکھنے آتے ہیں، اس لیے اپنا دکھ ان کو سنا کر مایوس نہیں کرنا چاہئے۔ اس لیے پرفام کرتا رہا۔
شکیل صدیقی نے کہا کہ ایسی کئی قربانیاں فنکار دیتے رہتے ہیں۔ یہ ہماری زندگی کا حصہ ہے اور ہم کسی پر احسان نہیں کررہے، صرف اپنا کام کررہے ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔