شیری رحمن کا ایکس اکائونٹ بھارت میں بند
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن کا ایکس اکائونٹ بھی بھارت میں بند کر دیا گیا۔ شیری رحمن نے اپنے ایکس اکائونٹ کی بھارت میں بندش پر کہا ہے کہ بھارت میں اظہارِ رائے پر قدغنیں نئی آہنی دیوار کی شکل اختیار کر چکی ہیں، اگر مقصد معقول آوازوں کو دبانا ہے تو یہ ہندوتوا ری پبلک کی تنگ نظری اور بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایکس پر پابندی کا مقصد سچ بولنے والوں کو خاموش کرنا ہے، بھارتی حکومت کے اقدام کا مقصد پہلگام واقعے کے حقائق چھپانا اور مقبوضہ کشمیر پر اٹھائی گئی آوازوں کو دبانا ہے، بھارت کے اس اقدام کی عالمی سطح پر مذمت ہونی چاہیے، بھارت کچھ بھی کر لے، حقائق سے نہیں بھاگ سکتا۔شیری رحمن نے کہا کہ بھارت نے پہلگام حملے کے بعد بلاجواز جارحیت کی، پاکستان نے ذمہ دارانہ انداز میں دفاع کیا، بھارت نے پوری جنگ کی بنیاد جھوٹ پر رکھی، جس کو آگے لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بھارت میں
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔