بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس نے 7 اور 9 مئی کے درمیان تقریباً 300 سے زائد افراد کو زبردستی سرحد پار بنگلہ دیش میں دھکیل دیا ہے، جس سے بنگلہ دیش کی سیکیورٹی فورسز سمیت سفارتی حلقوں میں ہل چل مچ گئی ہے۔

اس نوعیت کی انسانی دخل اندازی بنگلہ دیش کے 6 مختلف اضلاع میں سرحد کے ساتھ متعدد مقامات پر ہوئی ہیں، جس نے کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں ہندوستانی فوجی حملوں کے بعد پہلے سے بڑھی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی حملوں کے خلاف بنگلہ دیش کے مسلمانوں کا پاکستان کی حمایت کا اعلان

بارڈر گارڈ بنگلہ دیش، مقامی پولیس اور انتظامی حکام کے مطابق سرحد پار بھیجے گئے افراد میں نہ صرف بنگلہ دیشی شہری بلکہ روہنگیا اور ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔

شناخت کے اس پیچیدہ امتزاج نے صورتحال میں الجھن کا اضافہ کیا ہے، جس سے قانونی حیثیت، ارادے اور بین الاقوامی اصولوں کے بارے میں اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔

جانچ کے تحت قانونی حیثیت

ڈھاکہ میں حکام ان یکطرفہ کارروائیوں کے جواز اور محرکات دونوں پر سوال اٹھا رہے ہیں، قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمان نے، جو روہنگیا کے مسائل پر عبوری حکومت کے فوکل پرسن کے طور پر بھی کام کرتے ہیں، 7 مئی کو صورتحال پر بات کی۔

’ہم ہر کیس کا انفرادی طور پر جائزہ لے رہے ہیں، اگر کوئی بنگلہ دیشی شہری ثابت ہوتا ہے تو ہم اسے قبول کر لیں گے لیکن یہ رسمی اور قانونی ذرائع سے ہونا چاہیے، یہ دھکا لگانا درست طریقہ کار نہیں ہے۔‘

ان کے تبصروں کے بعد بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کی طرف سے بھارت کو ایک رسمی خط بھیجا گیا، جس میں گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس طرح کی سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ’بنگلہ دیش اور ہندوستان کی سرحد پر امن اور استحکام کی خاطر، اس طرح کے دھکے ناقابل قبول ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بھارت نے اپنے ہی 66 شہری بنگلہ دیش میں دھکیل دیے

وزارت خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق، یہ کارروائیاں کئی موجودہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں، جن میں 1975 کے ہندوستان بنگلہ دیش مشترکہ سرحدی رہنما خطوط، 2011 کا مربوط بارڈر مینیجمنٹ پلان اور بارڈر گارڈ بنگلہ دیش اوربھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے درمیان دو طرفہ میٹنگوں کے دوران طے شدہ پروٹوکول شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بارڈر سیکیورٹی فورس بارڈر گارڈ بنگلہ دیش بارڈر مینیجمنٹ پلان بنگلہ دیش بھارت پروٹوکول خلیل الرحمان ڈھاکہ روہنگیا قومی سلامتی کے مشیر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بارڈر سیکیورٹی فورس بارڈر گارڈ بنگلہ دیش بارڈر مینیجمنٹ پلان بنگلہ دیش بھارت پروٹوکول خلیل الرحمان ڈھاکہ روہنگیا قومی سلامتی کے مشیر بنگلہ دیش

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف