ڈونلڈ ٹرامپ کا دورہ خلیج فارس بھتہ لینے اور بلیک میلنگ کیلئے تھا، محمد علی الحوثی
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
عرب میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن کا کہنا تھا کہ بعض عرب بادشاہتیں نفسیاتی کمزوری اور ناکامی کا شکار ہیں۔ یہ ریاستیں اپنے سفارتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن "محمد علی الحوثی" نے کہا کہ امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرامپ" کا دورہ خلیج فارس، بھتہ لینے کے لئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرامپ عرب ممالک کی ترقی کے لئے نہیں بلکہ پیسے اور اپنے اقتصادی فائدے کے لئے مغربی ایشیاء آئے تھے۔ وہ عرب ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ محمد علی الحوثی نے ان خیالات کا اظہار المسیرہ سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ ممالک ہتھیاروں کی ڈیل کی مد میں امریکہ کو رقم دینے کی بجائے کم از کم غزہ کی پٹی میں نسل کشی روکنے پر خرچ کرتے۔ افسوس کی بات ہے کہ عربوں کے وسائل، امریکہ کے اقتدار کو محکم کرنے کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں جو صیہونی رژیم کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔ محمد علی الحوثی نے غزہ کی پٹی پر صیہونی مظالم پر عرب ممالک کی خاموشی کو آڑے ہاتھوں لیا۔
سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن نے کہا کہ بعض عرب بادشاہتیں نفسیاتی کمزوری اور ناکامی کا شکار ہیں۔ یہ ریاستیں اپنے سفارتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یمن، غزہ کی حمایت بند کرے گا تو خدائی غضب کا شکار ہو گا جو کہ امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے زیادہ شدید ہو گا۔ واضح رہے کہ حال ہی میں امریکی صدر نے مغربی ایشیاء کا دورہ کرتے ہوئے 3 عرب ممالک کا سفر کیا۔ جس میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ واشنگٹن نے ڈونلڈ ٹرامپ کے اس دورے کو خلیج فارس کے عرب ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون میں مضبوطی کا نام دیا۔ اس دوران مذکروہ بالا تینوں عرب ممالک نے ڈونلڈ ٹرامپ سے امریکہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد علی الحوثی ڈونلڈ ٹرامپ عرب ممالک نے کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔