موبائل کمپنی نوکیا کا مکمل ٹرانسپیرنٹ فون؟ وائرل ویڈیو کی حقیقت جانیے
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک ویڈیو نے خوب ہلچل مچائی ہوئی ہے، جس میں ایک خاتون کو ایک نہایت منفرد، شفاف موبائل فون استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
دیکھنے والوں کو پہلی نظر میں یہ فون شیشے سے بنا ہوا محسوس ہوتا ہے، جیسے کسی سائنس فکشن فلم سے آیا ہو۔ چونکہ اس فون پر "Nokia" لکھا نظر آتا ہے، اس لیے لوگوں نے فوری طور پر اندازہ لگایا کہ شاید نوکیا نے کوئی نیا اور انقلابی ’’ٹرانسپیرنٹ فون‘‘ متعارف کرا دیا ہے۔ بعض افراد نے تو اس کی قیمت بھی خود سے لگالی .
تاہم، حقیقت اس قیاس آرائی سے خاصی مختلف نکلی۔
نوکیا یا HMD گلوبل کی جانب سے اس نوعیت کے کسی فون کا کوئی اعلان یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔ بلکہ نوکیا کے حالیہ ماڈلز جیسے کہ Nokia 235 4G، Nokia 2660 Flip، اور Nokia 3210 (2024) ، جو 1999 کے کلاسک فون کا نیا انداز ہے، یہ سب فونز جدید سہولیات جیسے 4G، بلوٹوتھ اور طویل بیٹری لائف تو رکھتے ہیں، لیکن شفاف یا کرسٹل نما ڈیزائن ان میں سے کسی کا بھی حصہ نہیں۔
حقیقت کا پردہ خود اس ویڈیو کی خالق خاتون نے ایک وضاحتی ویڈیو کے ذریعے چاک کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا فون دراصل کوئی اصل فون نہیں، بلکہ ’’میٹافون‘‘ نامی ایک تجرباتی ماڈل ہے۔ یہ ایک آئی فون کی شکل کا ایکریلیک (Acrylic) سے تیار کردہ آلہ ہے، جس کا مقصد اصل فون کا صرف ’’احساس‘‘ دینا ہے، بغیر کسی اسکرین، ایپ یا سگنل کے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ ان کے ایک دوست کا تخلیقی منصوبہ تھا، جو یہ جانچنا چاہتے تھے کہ اگر ہم سب اس قدر فون کے عادی ہو چکے ہیں تو کیا صرف ایک فون کی شکل و صورت، بغیر فنکشن کے، ہمیں وہی جذباتی تسکین دے سکتی ہے؟ اور کیا اس سے موبائل کی لت کم ہو سکتی ہے؟
خاتون نے مزید بتایا کہ یہ میٹافون دراصل ایک علامتی چیز ہے، جو اس احساس کو اجاگر کرتا ہے کہ ہم جن آلات کے ذریعے جڑنے کی کوشش کرتے ہیں، وہی ہمیں ایک دوسرے سے دور کرتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، وہ اکثر ٹیکنالوجی کے منفی سماجی اثرات پر تبصرہ کرتی رہتی ہیں، اور ’’میٹافون‘‘ اسی نقطۂ نظر سے ایک فنکارانہ اظہار تھا، جو اب دنیا بھر کے صارفین کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
گویا، نوکیا کا شفاف فون فی الحال حقیقت نہیں، بلکہ ایک تخلیقی تجربہ ہے، اور سوشل میڈیا کی دنیا میں اس قسم کی بصری فریب کاری اب کوئی نئی بات نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔