بنگلہ دیش اور بھارت پھر آمنے سامنے،نیا تنازع پیدا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
بنگلہ دیشی شہریوں کو زبرذستی واپس بھیجنے کی پالیسی پر بنگلہ دیش بھارت نیا تنازع پیدا ہوگیا ہے۔
بنگلہ دیش نے انڈیا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں پکڑے جانے والے مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کو ان کے ملک کی سرحد کی جانب زبردستی بھیجا جا رہا ہے۔
یہ دعویٰ بنگلہ دیش کی سرحد کی نگرانی کے لیے وقف بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل جبار احمد کی جانب سے سامنے آیا ہے۔
بارڈر سیکیورٹی کے عہدیدار کے الزام کے بعد اب بنگلہ دیش کے امور داخلہ کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد جہانگیر عالم چودھری بھی ان کی تائید کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ڈھاکہ ٹریبیون اخبار کے مطابق جہانگیر عالم چودھری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعے کو انڈیا کی جانب سے لوگوں کو برہمن بیڑیا بارڈر کی طرف زبردستی دھکیلنے کی کوشش کی گئی جسے سرحدی محافظوں اور مقامی باشندوں کی مدد سے ناکام بنا دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے انڈیا سے درخواست کی ہے کہ وہ اس طرح کے بے دخل کرنے والے اقدامات کا سہارا نہ لے بلکہ اس کے لیے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق عمل کرے۔‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔