کوئی پاگل شخص ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ 24 کروڑ سے زائد لوگوں کا پانی روک سکتا ہے, اگر انڈیا نے دریائے سندھ کا پانی روکا تو نتائج دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
راولپنڈی (ویب ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل شعبہ تعلقات عامہ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دریائے سندھ کا پانی روگا گیا تونتائج دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ کوئی بھی پاکستان کا پانی روکنے کی ہمت نہ کرے، کوئی پاگل شخص ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ 24 کروڑ سے زائد لوگوں کا پانی روک سکتا ہے، اگر انڈیا نے دریائے سندھ کا پانی روکا تو نتائج دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
پی ایس ایل، بابر اعظم نے نئی تاریخ رقم کر دی
انہوں نے کہا کہ امید کرتا ہوں ایسا وقت کبھی نہ آئے تاہم اگرایسے اقدامات کیے گئے تودنیا دیکھے گی۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی پاکستان کا پانی روکنے کی ہمت نہ کرے، پاکستان کی افواج پیشہ ورہیں، ہم اپنے کیے گئے وعدوں کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور سیاسی حکومت کی ہدایات حرف بہ حرف مانتے ہوئے ان کے عزم کاپاس رکھتے ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جہاں تک پاک آرمی کاتعلق ہے یہ جنگ بندی آسانی سے برقراررہے گی۔ فریقین کے درمیان رابطے میں اعتماد سازی کے اقدامات کیے گئے ہیں تاہم اگر خلاف ورزی ہوتی ہے توہمارا جواب ہمیشہ اورموقع پرہوگا۔
38 کروڑ کی منشیات آنتوں میں چھپانے والا ملزم پکڑا گیا
ترجمان افواج پاکستان نے مزید کہا کہ تصدیق کرسکتاہوں چھٹا گرنے والا طیارہ میراج دو ہزار ہے، ہم مزیدکارروائی کرسکتے تھے مگرہم نے ضبط کا مظاہرہ کیا اور صرف طیاروں کونشانہ بنایا۔لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نے کہا کہ بھارت کی کشمیرپالیسی، ظلم و جبر اور اسے اندرونی معاملہ بنانے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ جب تک دونوں ممالک بیٹھ کربات نہیں کرتے تب تک مسئلہ کشمیرکی آگ بھڑکنے کاخطرہ موجود رہے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کا پانی سکتا ہے کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔