بجٹ پر مذاکرات کے لیے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 19 مئی ۔2025 )آئندہ مالی سال کے بجٹ پر مذاکرات کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان پہنچ گیا ہے فریقین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے بزنس ریکاڈر نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے بات چیت ہوگی آئی پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات کا یہ دوسرا مرحلہ ہے ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف وفد 22 مئی تک بجٹ مذاکرات کے لیے قیام کرے گا،معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف وفد کے بجٹ مذاکرات شروع ہو گئے.
(جاری ہے)
آئی ایم ایف وفد کے ساتھ آمدن اور اخراجات پر حتمی مذاکرات ہوں گے، بجٹ پر مذاکرات میں وزارت خزانہ، ایف بی آر، پلاننگ کمیشن حکام شامل ہیںوزارت اقتصادی امور اور پٹرولیم ڈویژن کے حکام بھی وفد سے مذاکرات میں شریک ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک حکام سے بھی آئی ایم ایف کے مذاکرات شیڈول ہیں 22 مئی تک تمام بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے پر بھی بات چیت ہوگی حکومت کی کوشش ہے کہ سالانہ 10 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تنخواہ کو ٹیکس چھوٹ دی جاسکے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے آئی ایم ایف کے لیے
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔