بھارت سے مذاکرات اب برابری کی بنیاد پر ہوں گے: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
حافظ نعیم الرحمٰن—تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا
امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ بھارت نے جھوٹ بول کر پاکستان پر الزام لگایا، پہلگام کا ڈرامہ رچایا اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑائیں۔
جماعتِ اسلامی کے تحت چکدرہ مالاکنڈ میں دفاع وطن اور غزہ مارچ نکلا گیا، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مارچ سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت سے کہتا ہوں کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کا شوق پورا کر لے لیکن اب بات برابری کی بنیاد پر ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے مذاکرات میں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو گا۔
امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان پر جھوٹا الزام لگایا، فوج نے کارروائی کی تو بھارتی ٹیکنالوجی کام نہ آ سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔