(سندھ بلڈنگ) کھوڑو سسٹم کا اسکیم 33 میں راج غیر قانونی تعمیرات جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدیل قریشی نے سرکاری محصولات کی مد میں نقصان پہنچایا ،حکام خاموش
انضار ریزیڈنسی اور سفاری سنگنیچر جیسی کمزور عمارتیں قائم ، الطاف سومرو کو ترقی ، اے ڈی مقرر
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں رائج کھوڑو سسٹم کے تحت ڈسٹرکٹ ایسٹ اسکیم 33 میں غیر قانونی تعمیرات میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدیل قریشی نے سرکاری محصولات کو بھاری نقصان پہنچاتے ہوئے خلاف ضابطہ تعمیرات شروع کروا رکھی ہیں موصوف کی جانب سے وزیر بلدیات کے بھائی محسن غنی سے ماہانہ کی بنیاد پر سسٹم حاصل کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے ،غیر قانونی دھندوں سے لین دین کے لئے کئی بلڈنگ افسران کی خدمات حاصل کی ہیں جنہیں سرکاری طور پر علاقے/پوسٹنگ کے لیے مقرر نہیں کیا گیا ہے اور وہ پٹہ سسٹم سے متعلق رشوت وصول کرنے میں ملوث ہیں ،ان میں سے چند اہم افراد میں الطاف سومرو شکیل چانڈیو اور بلڈنگ انسپکٹر شاہد بلڈنگ انسپکٹر محسن سمیت کئی نجی افراد شامل ہیں ، جن کے غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت انضار ریزیڈنسی اور سفاری سنگنیچر جیسی کمزور عمارتیں زمین پر موجود ہیں جو انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ، دلچسپ امر یہ ہے کہ بجائے سینئر بلڈنگ انسپکٹر الطاف سومرو کی کرپشن کی تحقیقات کروانے کے انہیں ترقی دے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کردیا گیا ہے اور کاغذی کاروائی کی حد تک ایڈمن میں تبادلہ کردیا ہے جبکہ موصوف کے غیر قانونی تعمیرات سے وصولیوں کے دھندے تا حال جاری ہیں ،جس کی تفصیلات آئندہ شمارے میں شائع کی جائیں گی ،جاری غیر قانونی دھندوں پر جرآت سروے ٹیم کی جانب ڈی جی اسحاق کھوڑو سے رابط کرنے کی کوشش کی گئی مگر رابط ممکن نہیں ہوسکا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غیر قانونی تعمیرات
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔