اسلام آباد (آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ بیرسٹر گوہر نے تحریک عدم اعتماد لانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، میڈیا پر چلنے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔ مجھے بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے کوئی ہدایات نہیں دی ہیں۔ دوسری جانب سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنا ہے میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جا رہی ہے، جو دوست یہ شوق پورا کرنا چاہتے ہیں کر لیں۔ تحریک انصاف کے بہت سے ارکان تحریک لانے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے۔ میں تو بطور سپیکر سب کا خیال رکھتا ہوں۔ مطمئن ہوں بطور سپیکر میرا کردار سب کے سامنے ہے۔ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی کی فضا قائم ہوئی ہے۔ وطن کے دفاع کیلئے جانیں قربان کرنے والے ہمارے حقیقی ہیرو ہیں۔ ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ دشمن کو بتا دیا پاکستان کے دفاع اور سالمیت کے تحفظ پر قوم یکجا ہے۔ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ کسی حکومتی شخص کا بانی پی ٹی آئی سے رابطہ نہیں ہوا، نہ مذاکرات ہوئے نہ پیش کش ہوئی۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے ڈیل کی خبروں کو مسترد کرتے کہا کہ ایسی باتیں آئے روز ہوتی ہیں لیکن ڈیل کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ بانی سے ان کی اپنی ہی جماعت کے رابطے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی جس جگہ پر ہیں مذاکرات یا پیشکش کے مرحلے گزر چکے۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سیز فائر کا کہا جاتا ہے حکومت یا کسی ادارے کی جانب سے کوئی فائرنگ نہیں ہو رہی۔ سیاسی عدم استحکام کے باوجود ملک معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔ بھارت کیخلاف فتح مل چکی۔ بانی پی ٹی آئی کی پیرول پر رہائی کا کوئی جواز نہیں۔ پہلے کون پیرول پر رہا ہوا ہے جو عمران خان کو رہا کیا جائے۔ بھارت نے 2019 میں بالا کوٹ پر حملہ کیا تو نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں تھے۔ کیا ہم کہتے تھے کہ نواز شریف کو پیرول پر رہا کرو، تو ہم بات چیت کریں گے۔ پی ٹی آئی کا چیئرمین موجود ہے ایسے تھوڑا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کر دیا جائے۔ بانی کی پیرول پر رہائی اور بنی گالہ منتقلی کی باتیں کرنے والوں کو مزے لینے دیں۔ عمران خان کے خلاف سیاسی نہیں ٹھوس مقدمات قائم ہیں۔ سیاسی مقدمات وہ ہوتے ہیں جو تنخواہ نہ لینے پر بنتے ہیں یا منشیات ڈال کر قائم کئے جاتے ہیں۔ توشہ خانہ اور جعلی ٹرسٹ کے مقدمات سیاسی نہیں کہلاتے۔ سیاسی قیدی، سیاسی شخصیت کے حوالے سے نہیں جرم کی نوعیت کے لحاظ سے ہوتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد بانی پی ٹی آئی پیرول پر رہا

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان