مریم نواز سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں برطانیہ کے مثبت اور مدبرانہ کردار کو سراہا، اس موقع پر باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعاون، تعلیم، سرمایہ کاری، ماحولیاتی تحفظ اور گورننس میں شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔
اس موقع پر سبکدوش ہونے والی سیاسی مشیر زوئی ویئر کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا، مریم نواز شریف نے سبکدوش ہونے والی برطانوی ہائی کمیشن کی سیاسی مشیر زوئی ویئر کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی سفارتی خدمات کو سراہا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے تعلیم، تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تحفظ اور گورننس کے شعبوں میں باہمی اشتراک کار مزید بڑھانے کی پیشکش بھی کی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سیاسی مشیر زوئی ویئر نے اپنے منصب پر دیانت، محنت اور شراکت داری کے جذبے کے ساتھ فرائض انجام دیئے، زوئی ویئر کا ارتھ شاٹ پرائز جیسے عالمی ماحولیاتی منصوبے میں کردار قابلِ تحسین ہے، وہ پنجاب میں ہمیشہ دوستوں کی طرح یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ جین میریٹ کی بطور ہائی کمشنر خدمات کو حکومتِ پنجاب انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، جین میریٹ کا عالمی سفارتی تجربہ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کی نوید ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب برطانیہ کے ساتھ اشتراک کار کو مزید وسعت دینے اور تعاون کے فروغ کے نئے مواقع تلاش کرنے کیلئے پُرعزم ہے، 17 لاکھ پر مشتمل برٹش پاکستانی برادری کی بڑی تعداد کا تعلق پنجاب سے ہونا باہمی پائیدار رشتے کی عملی مثال ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مریم نواز زوئی ویئر
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم