Daily Ausaf:
2026-07-24@00:51:32 GMT

پیدائش اور موت کی رجسٹریشن کے نئے قوانین نافذ

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

لاہور (نیوز ڈیسک) پیدائش اور موت کی رجسٹریشن کے نئے قوانین نافذ کردیئے گئے، جس سے شہریوں کے لیے یہ زیادہ قابل رسائی اور آسان ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں برتھ اور ڈیتھ رجسٹریشن کی بہتری کیلئے قانون سازی مکمل کرلی گئی۔

محکمہ لوکل گورنمنٹ نے نئے برتھ اور ڈیتھ رولز نافذ کر دیے،پیدائش اور موت کے اندراج کے نئے قوانین کا مقصد رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانا ہے، جس سے شہریوں کے لیے یہ زیادہ قابل رسائی اور آسان ہو گا۔

اس حوالے سے قواعد کا نوٹیفکیشن پنجاب گزٹ نےجاری کر دیا ہے، نئے قوانین کے مطابق سات سال تک کے بچوں کے لیے پیدائش کی رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ایک سال کی عمر تک پیدائش کا اندراج متعلقہ سیکرٹری یوسی کا اختیار ہوگا جبکہ 7 سال کی عمر تک کا اندراج متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا اختیار ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق 7سال سے زائد عمر کا اندراج متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر کا اختیار ہو گا۔

اس سے قبل نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پیدائش، موت اور ازدواجی حیثیت میں تبدیلی کی آن لائن رجسٹریشن کے لیے ایک موبائل ایپ تیار کی۔

نادرا کے ترجمان کا کہنا تھا کہ موبائل ایپلیکیشن ازدواجی حیثیت، پیدائش اور اموات میں تبدیلی کی آن لائن رجسٹریشن کے لیے تیار کی گئی تھی، اس ایپ کے ذریعے شہری زندگی کے اہم واقعات کو گھر بیٹھے ہی رجسٹر کر سکیں گے۔

موبائل ایپ ابتدائی طور پر پنجاب میں متعارف کرائی جائے گی، جہاں تمام یونین کونسلوں میں بائیو میٹرک تصدیق کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

نادرا کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ لوگوں کی سہولت کے لیے اسلام آباد کی یونین کونسلوں میں نادرا ون ونڈو کاؤنٹرز قائم کر رہے ہیں۔

ایک الگ پیش رفت میں، اتھارٹی نے پاکستان کے ہسپتالوں اور صحت کی دیکھ بھال کے مراکز میں پیدائش اور موت کے ڈیجیٹل رجسٹریشن کے نظام کو متعارف کرانے کے لیے سول دستاویزات کو جدید بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔
مزیدپڑھیں:مکہ مکرمہ میں پاکستانی عازمین حج کو حرم شریف تک پہنچنے میں مشکلات

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پیدائش اور موت رجسٹریشن کے نئے قوانین کے لیے

پڑھیں:

حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری

صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔

شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری