City 42:
2026-06-03@06:41:25 GMT

لوئر دیر میں دریائے پنچکوڑہ میں نہانے پر پابندی

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

ویب ڈیسک :دریائے سوات میں حادثے کے بعد لوئر دیرمیں ضلعی انتظامیہ نے دریائے  پنچکوڑہ  میں نہانے  پر  پابندی عائد کردی ہے۔ 

ضلع انتظامیہ لوئر دیر نے  دریائے پنچکوڑہ میں نہانے پر پابندی عائد کردی ہے تاہم  انتظامیہ کی پابندی کے باوجود لوگ دریا میں نہانے میں مصروف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے  دریا کنارے تجاوزات کی خاتمے کیلئے آپریشن کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ 

انارکلی : مکان کی چھت گر نے سےملبےتلےدب کر5افراد زخمی

اُدھر نوشہرہ کی ضلعی انتظامیہ نے دریائے کابل کے کنارے سیاحتی مقامات پر سیروتفریح پر پابندی لگادی جبکہ دریا کنارے پولیس نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔ 

ضلع سوات میں بھی بغیر این اوسی کہ کسی کشتی کو  دریا میں اتارنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ دفعہ 144کے نفاذ کے بعد سیروتفریح کے لئے آنے والوں کو دریا کنارے آنے سے بھی روک دیاگیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: میں نہانے

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی