خیبر پختونخوا: رواں سال دہشتگردی کے واقعات میں کتنے افراد شہید ہوئے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
محکمہ انسداد دہشتگردی خیبر پختونخوا نے رواں سال صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والے افراد کے بارے میں رپورٹ جاری کردی۔
سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں رواں سال پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 200 افراد شہید ہوئے۔
کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ میں بتایا کہ مختلف دہشتگردی کے واقعات میں 49 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 69 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال صوبے میں 80 عام شہری بھی شہید ہوئے اور 213 زخمی ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دہشتگردی کے شہید ہوئے کے واقعات رواں سال
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔