سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈا، 11 ملزمان کیخلاف مقدمات درج
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
این سی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ ملزمان مسلسل سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد کی تشہیر میں ملوث رہے، تشہیری مواد نفرت انگیزی اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث ہے، ملزمان نے انتشار، بے چینی اور ریاست کے خلاف بداعتمادی کی کوشش کی۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست مخالف پروپیگنڈا کرنے پر نیشنل سائبر کرائم ایجنسی سندھ زون میں 3 خواتین سمیت 11 ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔ مقدمات ریاست مخالف اور قومی سطح کی شخصیات کے خلاف ہرزہ سرائی کے تحت درج کیے گئے۔ نامزد ملزمان نے ویب ٹی وی سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پروپیگنڈا کیا۔ مذکورہ اکاونٹس سے پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھی ریاست مخالف ہرزہ سرائی سامنے آئی۔ درج مقدمات کے تحت ایک خاتون سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ریاست مخالف پروپیگنڈے میں ملوث 500 اکاونٹس کے حوالے سے مزید کارروائی جاری ہے۔ 15 مئی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کارروائی کرتے ہوئے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم پر 5 ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے تھے۔
مقدمے میں کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے میں ملوث ہیں، ملزمان نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران جھوٹا اور اشتعال انگیز مواد شیئر کیا۔ این سی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ ملزمان مسلسل سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد کی تشہیر میں ملوث رہے، تشہیری مواد نفرت انگیزی اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث ہے۔ این سی سی آئی اے نے مزید کہا تھا کہ ملزمان نے انتشار، بے چینی اور ریاست کے خلاف بداعتمادی کی کوشش کی، قانون کے مطابق ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر ریاست مخالف کہ ملزمان میں ملوث کے خلاف
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔