کیا مشکلات میں گھرے ڈاکٹر یونس مستعفی ہوجائیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے استعفے پر غور کرنے کی تصدیق کر دی۔
نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کی کنوینر ناہید اسلام نے گزشتہ روز (22 مئی) بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس مستعفی ہونے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ ان کے لیے کام کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
ناہید اسلام کے مطابق سیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی مشترکہ بنیاد نہ تلاش کرسکنے کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔
ناہید اسلام کے مطابق ڈاکٹر یونس سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال میں وہ کام نہیں کرسکتے۔ چیف ایڈوائزر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ملک کی موجودہ صورتحال میں کام نہیں کر پائیں گے۔
ناہید اسلام کے مطابق ڈاکٹر یونس کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک کام نہیں کر سکتے جب تک سیاسی جماعتیں مشترکہ بنیاد پر نہیں پہنچ جاتیں۔
استعفے سے متعلق ڈاکٹر یونس کے اس مؤقف پر ناہید اسلام نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ملک کی سلامتی اور مستقبل کے لیے مضبوط رہیں اور عوامی بغاوت کی توقعات پر پورا اتریں۔
ناہید اسلام نے چیف ایڈوائزر پر زور دیا کہ وہ استعفے کا فیصلہ نہ کریں۔ تاہم ڈاکٹر یونس سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اپنا کام نہیں کر سکتے تو ان کے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ 2 روز کے دوران ڈاکٹر یونس کی حکومت کو 4 بڑے دھچکے لگے ہیں۔ سب سے پہلے کل چیف آف آرمی سٹاف جنرل وقار الزمان نے کہا کہ قومی انتخابات ممکنہ طور پر اس سال دسمبر تک ہونے چاہییں۔
اگرچہ اس حوالے سے ڈاکٹر یونس نے دسمبر کی ٹائم لائن بھی تجویز کی تھی، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ اصلاحات کی رفتار پر منحصر ہے، لہٰذا انتخابات اگلے سال جون میں بھی ہو سکتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ ہائیکورٹ نے بی این پی کے نامزد امیدوار اشراق حسین کو ڈھاکہ ساؤتھ سٹی کارپوریشن کا میئر قرار دینے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر روک لگانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
پھر گزشتہ روز ہی وزارت خزانہ این بی آر کو تحلیل کرنے کے بعد اسے 2 حصوں میں تقسیم کرنے کے اپنے پہلے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی، جس سے اصلاحات کے ایک اور اہم قدم کو دھچکا لگا ہے۔
علاوہ ازیں ہیومن رائٹس واچ نے عوامی لیگ پر پابندی لگانے اور اس کے حامیوں کو دبانے پر حکومت پر تنقید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ناہید اسلام کام نہیں کر ڈاکٹر یونس
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔