وزیرِ مذہبی امور سردار یوسف—فائل فوٹو

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ ٹورز آپریٹرز کی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے ہزاروں لوگ حج پر نہیں جاسکیں گے، وزیراعظم نے معاملے کی تحقیقات کےلیے کمیٹی بنادی ہے، جس کی سفارشات کے مطابق غفلت برتنے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔

اسلام آباد میں وزیرِ مذہبی امور سردار یوسف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عازمینِ حج کو سہولتوں کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے، پاکستان کا حج کوٹہ 1 لاکھ 79 ہزار تھا۔

وزیرِ مذہبی امور سردار یوسف کا کہنا ہے کہ رواں سال نجی شعبے سے 25 ہزار 698 پاکستانی عازمینِ حج سعودی عرب جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری اسکیم کے تحت وزارتِ مذہبی امور سارے کام سر انجام دیتی ہے، دو بار سعودی عرب گیا اور سعودی حکام سے ملاقاتیں کیں، اس دفعہ کی حج پالیسی نومبر میں منظور ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے باقی رہ جانے والے 65 ہزار حاجیوں کیلئے سعودی حکومت سے بات کی ہے: وفاقی وزیر مذہبی امور

سردار محمد یوسف نے بتایا کہ حج پالیسی کی منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد ہوا، حج کا 50 فیصد کوٹہ سرکاری اور اتنا ہی نجی شعبے کے لیے ہے، نجی شعبے میں بر وقت اقدامات نہیں ہو سکے جبکہ سرکاری کوٹے پر بر وقت کام ہوا، حاجیوں کی منظوری بھی بر وقت ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ نجی شعبے میں آپریٹرز نے تاخیر سے کام لیا، سعودی حکومت نے نجی شعبے کو 14 فروری تک 25 فیصد رقم جمع کرنے کی ہدایت کی تھی، پھر سعودی عرب نے مزید ایک ہفتے کی مہلت دی، مگر دوسری مہلت کو بھی نظر انداز کیا گیا۔

وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے بتایا کہ جب ہمیں معاملے کی خبر ہوئی تو سعودی حکام کو مزید مہلت کی درخواست کی، سعودی حکومت کی پالیسی ناصرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ہوتی ہے، میں نے اس سے متعلق وزیرِ اعظم کو بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری درخواست پر نجی شعبے کو 10 ہزار کا کوٹہ دیا گیا، رواں سال نجی شعبے سے 25 ہزار 698 عازمینِ حج سعودی عرب جائیں گے، اس ضمن میں غفلت کے ذمے دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، وزیرِ اعظم کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے، 31 مئی تک حج پروازوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مذہبی امور سردار یوسف نے بتایا کہ

پڑھیں:

دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔

دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔

اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔

اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔

اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔

دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔

ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔

اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔

دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف