چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے وکلا وفد کی ملاقات، بار ایسوسی ایشنز کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 مئی2025ء) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا ہے کہ وکلا اور بار ایسوسی ایشنز کے مسائل کا حل عدالت عالیہ لاہور کی اولین ترجیح ہے،بروقت اور معیاری انصاف کی فراہمی کیلئے بار اور بینچ کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز لاہور ہائیکورٹ میں اپنے چیمبر میں مختلف وکلا بارز نمائندوں سے ملاقات کے دوران تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔
ملاقات میں بار ایسوسی ایشنز کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔(جاری ہے)
ملاقات کرنے والوں میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک آصف احمد نسوانہ،ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر محمد اظہر خان مغل،لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر مبشر رحمان، ضلعی بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے صدر سردار منظر بشیر خان، ضلعی بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے صدر ملک محمد عامر اور ضلعی بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر جاوید علی ڈوگر شامل تھے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ صوبے کے عوام کو جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ملاقات میں رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ امجد اقبال رانجھا بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بار ایسوسی ایشن لاہور ہائی کورٹ کے صدر
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔