بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، سری لنکا میں تشویش
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
کولمبو(نیوز ڈیسک)بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر سری لنکا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سیاسی مبصرین نے کہا ہے کہ دہائیوں سے ناقابلِ تنقید سمجھے جانے والے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے دیگر معاہدوں سے متعلق غیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
غیر ملکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا اس وقت بھارت کے ساتھ کئی معاہدوں پر بات چیت کر رہا ہے، جن میں ایک قومی بجلی کے گرڈز کو جوڑنے اور دوسرا دونوں ممالک کے درمیان زمینی پل تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔
اقوام متحدہ میں سری لنکا کے سابق سفیر کا کہنا تھا کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ جیسے اہم معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر سکتا ہے تو بھارت کے ساتھ بجلی اور ایندھن کے معاہدے کرنا بےوقوفی ہو گی۔
یاد رہے کہ بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان پر بےبنیاد اور من گھڑت الزامات تراش کر 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کردیا تھا۔
سندھ طاس معاہدے کے مطابق کوئی بھی فریق معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا لیکن اس کے باوجود بھارت آبی جارحیت پر اترا ہوا ہے اور پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا پانی روکنے پر تلا ہوا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت نے عازمین حج کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے سری لنکا
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔