پاکستان نیوی وار کالج کا 54 واں کانووکیشن، 118 افسروں کو ڈگریاں تفویض
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نیوی وار کالج لاہور کے 54ویں کانووکیشن کی تقریب سے اپنے خطاب میں نیول چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ کشیدگی جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کا واضح ثبوت ہے۔ نیول چیف کا کہنا تھا کہ غیر ریاستی عناصر کے کردار اور غیر روایتی جنگی طریقہ کار کے تناظر میں روایتی عسکری حکمت عملیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان نیوی وار کالج کے 54 ویں کانووکیشن کی تقریب کا لاہور میں انعقاد ہوا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف تقریب کے مہمان خصوصی تھے، تقریب میں 118 افسروں کو ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ فارغ التحصیل افسروں میں دوست ممالک کے 44 افسر بھی شامل ہیں، نیول چیف نے جنگی نوعیت میں تبدیلی اور سمندری سلامتی کو درپیش نئے خطرات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق نیول چیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ کشیدگی جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کا واضح ثبوت ہے۔ نیول چیف کا کہنا تھا کہ غیر ریاستی عناصر کے کردار اور غیر روایتی جنگی طریقہ کار کے تناظر میں روایتی عسکری حکمت عملیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے کامیاب گریجویٹس میں ڈگریاں تقسیم کیں، تقریب میں اعلیٰ عسکری حکام ، سول معززین اور کورس ممبران کے اہل خانہ شریک تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر کے مطابق نیول چیف
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔