کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نشان امتیاز (ملٹری) کی زیر صدارت منعقد ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس نے بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں متحرک ہندوستانی حمایت یافتہ دہشت گرد پراکسیوں کی سرکوبی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مسلح افواج، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ دہشت گرد پراکسیوں اور ان کے سہولت کاروں کا مقابلہ کریں گی، انتشار اور خوف کی فضا پیدا کرنے کے لیے بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے ملک دشمن عناصرکو قومی عزم اور مکمل استعداد کے ساتھ نیست و نابود کردیا جائے گا۔
پاک افواج بلاشبہ پوری دنیا میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دلیری اور شجاعت کے لیے مشہور ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جانوں کی جتنی قربانیاں پاک فوج دے رہی ہے، دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ چند روز پیشتر پاک فوج کے ہاتھوں میدان جنگ میں بدترین شکست کے بعد بھارت بزدلانہ حرکتوں پر اُتر آیا ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں اس کے حمایت یافتہ دہشت گرد متحرک ہوگئے ہیں۔ اسکولزکے معصوم بچوں کو نشانہ بنانا انسانیت کی توہین ہے۔
اب شکست خوردہ بھارت پاکستان کو کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کرنے سے باز رکھنے کے لیے پاکستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو فروغ دے گا اور اِن کے لیے پاکستان کے اندر سے پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی کرے گا۔ ملک کے اندر دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور حمایتیوں کا قلع قمع کرنے اور دہشت گرد جہاں بھی ہوں ان کے ہینڈلرز جہاں بھی ہیں ان کی سرکوبی اور خاتمہ کرنے سے ہی اس ناسور سے ملک کو چھٹکارا مل سکتا ہے۔
بھارت سی پیک کو تخریب کاری کا نشانہ بنا کر ایک طرف پاکستان کو چین کی مدد سے ترقیاتی عمل کو تیز کرنے سے محروم رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف پاکستان اور بحیرہ عرب کے خطے میں چین کی موجودگی کو ختم کرنا چاہتا ہے، مگر پاکستان اور چین دونوں بھارت کے ان عزائم سے خوب واقف ہیں۔
پاکستان اور چین کے مشترکہ تعاون اور کوششوں سے سی پیک کا منصوبہ نہ صرف قائم ہے بلکہ پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد اب دوسرے اور اہم مرحلے پر کام جاری ہے جس کے دوران میں پاکستان اور چین اسپیشل اکنامک زونزمیں مشترکہ سرمایہ کاری کریں گے اور صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، تعلیم، سیاحت اور ماحولیات کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دیں گے، لیکن سی پیک کے تحت ان کامیابیوں پر بھارت کو سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسی وجہ سے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیوں سے اُسے خصوصی طور پر ٹارگٹ کیاجا رہا ہے۔
پاکستان اور چین مِل کر بھارت کی ان کوششوں کو ناکام بنا دیں گے کیونکہ سی پیک پر حملہ صرف پاکستانی مفادات پر حملہ نہیں ہے بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعاون اور اتحاد پر حملہ ہے۔ پاکستان کی طرف سے اب واضح کردیاگیا ہے کہ اب کارروائیوں کو مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور بھارت کو اِن کارروائیوں کے سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اسی وجہ سے پاکستان نے بین الاقوامی برادری کو بھی آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ بھارت نے ایک بھرپور اور منظم پروپیگنڈے کے ذریعے اپنا مکروہ چہرہ دنیا سے چھپایا ہوا ہے۔
دوسری جانب دہشت گردوں نے جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنا ہدف بنا لیا ہے اور وہ انٹرنیٹ کے ذریعے ان تک رسائی کر کے انھیں گمراہ کرتے، اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے اور راستے سے بھٹکاتے ہیں۔ بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ گمراہی کے اس راستے پر چل پڑے ہیں اور نوجوان نسل کو بچانے کے لیے صوبائی حکومتوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر مربوط حکمتِ عملی بنانا ہوگی۔
ایسے محسوس ہوتا ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ دہشت گرد اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں، شروع شروع میں انھوں نے مدارس کے غریب طلباء کو اپنا ہدف بنایا، خاص طور پران مدارس میں طلباء پر توجہ دی گئی جو غریب علاقوں میں واقع ہیں اور بہت سے والدین اپنے بچوں کو اِن مدارس میں اِس لیے داخل کرا دیتے ہیں کہ انھیں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ روٹی اور کپڑے کی سہولت بھی مفت حاصل ہو جائے گی، ایسے غریب طلباء کو معمولی رقم کا لالچ دے کر گمراہ کیا جا سکتا ہے، اِس لیے ان پر توجہ مرکوز رکھی گئی جب یہ بات واضح ہو گئی کہ چند ایک مدارس کے بعض طلباء دہشت گردی میں ملوث ہیں تو سیکیورٹی حکام نے تفتیش کا سلسلہ وسیع کر دیا اور بعض ایسے مدرسے بھی چھاپوں کی زد میں آ گئے جن کا کوئی تعلق دہشت گردی سے ثابت نہ ہوا۔
دہشت گردوں نے جب یہ محسوس کیا کہ وہ اپنے حلیے کی وجہ سے جلد ہی نگاہوں میں آ جاتے ہیں تو انھوں نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر لی اور کلین شیو دہشت گرد بھی سامنے آنے لگے۔اب آگے بڑھ کر یونیورسٹیوں اور کالجوں کے جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو دہشت گردی کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
پوری وادی کشمیر کو ایک وسیع جیل میں تبدیل کرکے بھارت کشمیری عوام کو مظالم سے دوچار کر رہا ہے۔ بھارت کی ان کارروائیوں، جو کہ نہ صرف بنیادی انسانی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ مروجہ بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی کھلی خلاف ورزیاں ہیں، کو پاکستان نے بین الاقوامی برادری کے نوٹس میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان نے اُسے دنیا کے تمام اہم حلقوں جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، او آئی سی اور بڑی طاقتوں کے دارالحکومت اور انسانی حقوق کی علم بردار تنظیموں کے صدر دفاتر شامل ہیں، کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ یہ کارروائیاں پاکستان کی داخلی خود مختاری، آزادی اور سلامتی کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
اس کا ایک اہم پہلو جس کی طرف پاکستان بار بار دنیا کی توجہ مبذول کروا رہا ہے کہ ان کارروائیوں سے نہ صرف پاکستان اور بھارت کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ جنوبی ایشیائی خطے کا امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے اور چونکہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں، ان کے درمیان روایتی تصادم ایک ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو کر پوری دنیا کے امن کو خاکستر کرسکتا ہے۔
بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث تنظیموں پر مشتمل ایک کنسورشیئم (Consortium)تشکیل دے چکا ہے اور جن تنظیموں کو اس مقصد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جارہا ہے، ڈوزیئر کے مطابق اُن میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے کے علاوہ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچستان ری پبلیکن آرمی اور دو انتہا پسند مذہبی گروہ ،جماعت الاحرار اور حزب الاحرار بھی شامل ہیں۔
بھارت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی پاکستان کے لیے نہیں بلکہ جنوبی ایشیا اور دنیا کے لیے انتہائی تشویش ناک خبر ہے کیونکہ القاعدہ کے زوال کے بعد اور افغانستان کی موجودہ غیر یقینی صورت حال میں ’’داعش‘‘ القاعدہ اور طالبان کی جگہ لے لے گی اور اس کی کارروائیاں جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گی، بلکہ وسطی ایشیا، مشرقِ وسطٰی اور افریقہ تک پھیل سکتی ہیں۔ بھارت صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی علاقوں میں بھی تخریب کار گروپوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ کچھ گرفتار دہشت گردوں نے تفتیش کے دوران اس بات کا انکشاف کیا کہ انھیں بھارت سے تربیت اور فنڈنگ ملی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت افغانستان میں اپنے قونصل خانوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرتا رہا ہے، خاص طور پر ان سالوں میں جب افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ زیادہ تھا۔
بھارت نے کشمیر میں اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور دُنیا کو گمراہ کرنے کے لیے جعلی دہشت گردی کی کارروائیوں کا ڈرامہ پہلگام رچایا تھا لیکن پاکستان پوری طرح چوکنا تھا اور جعلی کارروائی کی آڑ میں بھارت کو پاکستان کی علاقائی سلامتی کی خلاف ورزی کرنے پر پہلے کی طرح منہ کی کھانا پڑی ہے۔ بین الاقوامی برادری اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی تنظیمیں دونوں ممالک سے بارہا یہ کہہ چکی ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں اور باہمی الزامات سے گریز کریں۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ جب تک دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا قائم نہیں ہوتی، اس طرح کے الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دنیا کے لیے یہ ایک خطرناک صورت حال ہے کیونکہ دونوں ممالک جوہری طاقتیں ہیں اور کسی بھی تنازع کا سنگین عالمی اثر ہو سکتا ہے۔خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت سنجیدگی سے مذاکرات کا آغاز کریں۔ واقعی بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے تو اسے کھلے دل سے ان الزامات کی تفتیش کرنی چاہیے امن کے حصول کے لیے صرف الزامات اور بیانات کافی نہیں بلکہ ٹھوس شواہد، سنجیدہ مکالمہ اور باہمی احترام ضروری ہے۔ جب تک دونوں ممالک اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی نہیں لائیں گے، تب تک خطے میں پائیدار امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور چین بین الاقوامی دونوں ممالک پاکستان کے کے درمیان اور بھارت ہیں بلکہ سکتا ہے دنیا کے کے ساتھ ہے اور کیا ہے رہا ہے کے لیے سی پیک
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز